تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 195
تاریخ احمدیت۔جلد 28 195 سال 1972ء صاحب نے خط لکھا کہ دوست محمد سخت بیمار ہے آپ جلدی آجا ئیں تو حضرت خلیفہ اول نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں عرض کیا کہ حضور میرا بھتیجا بہت بیمار ہے تو حضور نے فرمایا مولوی صاحب آپ ایک دن کے لئے چلے جائیں۔چنانچہ حضرت خلیفہ اول میانی میں تشریف لے گئے اور صرف ایک دن ہی وہاں رہ کر واپس قادیان چلے آئے۔(۹) حضرت خلیفہ اول کو دستوں کی بیماری تھی۔دست آ رہے تھے اور بہت ضعف ہو گیا تھا۔تو حضرت صاحب کی طرف سے حکم پہنچا کہ باہر جا کر تقریر کریں۔چنانچہ اسی وقت حکم سنتے ہی باہر چلے گئے اور قریباً تین گھنٹہ تک تندرستوں کی طرح تقریر فرمائی۔(۱۰) ہمارے ایک رشتہ دار پیر سید نجف شاہ صاحب حلالپوری حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت میں ایک نظم لکھ کر لائے اور مسجد مبارک میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سامنے سنانے لگے تو ان کی آواز کا نپتی تھی اور وہ سنانہ سکتے تھے تو مجھے انہوں نے کہا کہ تم سناؤ۔چنانچہ میں نے بآواز بلند سنانا شروع کیا تو حضرت خلیفہ اول نے عرض کیا حضور یہ سردار محمد کا لڑکا ہے۔حضور بہت خوش ہوئے اور بہت دیر تک نظم سنتے رہے۔یہ نظم حضور کے ارشاد مبارک سے اخبار بدر میں چھپ بھی گئی تھی۔(۱۱) لاہور میں حضور تقریر فرما رہے تھے۔اس جلسہ میں شہر کے امراء بلائے گئے تھے۔دوران تقریر میں حضور نے یہ بھی فرمایا کہ میرے مخالفوں کے میرے پاس خط آتے جو کہ گالیوں سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں اور میں ان کو پڑھ کر صندوق میں ڈال دیتا ہوں اور میں سمجھتا ہوں کہ دراصل یہ لوگ مجھے گالیاں نہیں دیتے بلکہ میرے بھیجنے والے کو گالیاں دیتے ہیں۔12 آپ کے لخت جگر محترم منیر احمد صاحب قریشی تحریر فرماتے ہیں:۔”میرے والد قریشی امیر احمد صاحب حضرت خلیفہ اول کے حقیقی بھیجے کے بیٹے ہیں اور وہ ان کو بھیرہ سے اپنے ساتھ ہی قادیان ہجرت کر کے لے آئے اور ان کی پرورش ان کے گھر میں ہی ہوئی۔حضرت خلیفہ اول کے تمام کام جو ذاتی ہوتے تھے وہ ان کے سپر دہی کئے جاتے تھے۔حضرت خلیفہ اول نے ان کی شادی اپنی بیوی حضرت صغراں بیگم صاحبہ کے حقیقی بھائی (حضرت) پیر افتخار احمد صاحب کی صاحبزادی فہمیدہ بیگم سے تجویز فرمائی اور اپنی وفات سے قبل خلیفہ اول نے ان کا ہاتھ حضرت نواب محمد علی خاں صاحب کے ہاتھ میں پکڑا دیا اور اس طرح زندگی کا ایک کثیر حصہ ان کے