تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 192 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 192

تاریخ احمدیت۔جلد 28 192 سال 1972ء سب سے چھوٹے صاحبزادے منیر الدین احمد صاحب تھے جنہیں آپ نے حصول تعلیم کے لئے لاہور بھجوایا تھا جو کہ یکم جولائی ۱۹۷۰ء کو میو ہسپتال میں انتقال کر گئے اور اسی روز ربوہ کے عام قبرستان میں سپردخاک کئے گئے۔8 ڈاکٹر صاحب دل کے مریض تھے مگر انہوں نے یہ صدمہ نہایت صبر اور رضا بالقضاء کے ساتھ برداشت کیا۔اولاد: ظہیر الدین صاحب۔صلاح الدین صاحب۔منیر الدین احمد صاحب۔لئیقہ طور صاحبہ حضرت قریشی امیر احمد صاحب آف بھیرہ میانی ولادت : ۱۸۹۰ ء 9 بیعت وزیارت : ۱۹۰۱ ء 10 وفات : ۸ فروری ۱۹۷۲ء11 سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الاول کے برادر زادہ حضرت قریشی حکیم سردار محمد صاحب کے صاحبزادے تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بارش اور سخت زلزلہ والی پیشگوئی (۲۸ فروری ۱۹۰۷ء) کے عینی شاہدوں میں سے تھے۔حضور نے تتمہ حقیقۃ الوحی صفحہ ۵۷ میں آپ کا نام بھی اپنے قلم مبارک سے درج فرمایا ہے۔زمانہ مسیح موعود علیہ السلام سے متعلق آپ کے بعض چشمد ید واقعات ذیل میں تحریر کئے جاتے ہیں۔فرماتے ہیں :۔(۱) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام عصر کے قریب بچوں کو شربت پلا رہے تھے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی اور حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کو ایک ایک گلاس شربت کا پلایا تو اس وقت اتفاقیہ طور پر یہ خاکسار بھی وہاں چلا گیا تو حضور نے اپنے ہاتھ مبارک سے شربت کا ایک گلاس خاکسار کو بھی پلایا۔شربت میں کیوڑا اور تخم بالنگو بھی ملا ہوا تھا۔وہ شربت نہایت اعلیٰ اور مفترح تھا۔(۲) حضور کے گھر میں ایک مائی تابی ہوا کرتی تھی وہ بہت ضعیف العمر تھیں۔انہوں نے حضرت صاحب کی خدمت میں آکر کہا کہ حضرت صاحب جی میرا سر بہت کمزور ہو گیا ہے۔تو حضور علیہ السلام نے اسی وقت ان کو بادام اور مصری دی اور فرمایا کہ شیرہ بنوا کر پیا کرو۔لیکن جس نے بھی مائی تابی کے واسطے شیرہ بنایا مائی تابی کو پسند نہ آیا۔میں بھی پاس ہی کھڑا تھا حضور نے مسکراتے ہوئے مجھے فرمایا میاں امیر احمد مائی تابی کو شیرہ بنا دو۔چنانچہ حسب الحکم مائی تابی کے سامنے لوٹے سے پہلے اپنے ہاتھ دھوئے اور تین بار اپنے ہاتھوں کو پاک کیا پھر کونڈی اور سونٹے کو تین بار دھویا اور تین بار ہی پاک کیا اور