تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 190 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 190

تاریخ احمدیت۔جلد 28 190 سال 1972ء دی۔جب عبد الکریم واپس آیا تو میں نے خود دیکھا کہ اس میں باؤلے پن کے آثار ظاہر ہوئے اور منہ سے جھاگ جاری تھی۔آخر اسے کمہاروں کے محلہ کی طرف ایک مکان میں بند کر دیا۔غالباً حضرت صاحب نے اس کے لئے دوائی کی پڑیاں بھی بھیجی تھیں۔آخر دولڑکوں ڈاکٹر گو ہر دین صاحب اور جمیل صاحب ساکن منگل کو جو متعلم جماعت دہم تھے ان کو لائین دے کر رات کے وقت ہی بٹالہ کسولی کو تار دینے کے لئے بھیجا گیا جہاں سے جواب آیا Nothing can be done for Abdul Karim حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کے لئے دعا کی اور وہ تندرست ہو کر ہمارے ساتھ کھیلتا رہا ہے۔۔۔۔جب ہم موجودہ دفاتر نظارت ہائے سلسلہ عالیہ احمد یہ متصل مسجد اقصیٰ کے نیچے سے گذرتے تھے جس میں اس وقت ہندو ر ہا کرتے تھے اور یہ مکان ان کی ملکیت تھا تو ہندو عورتیں ہم پر دال کا ٹھنڈا پانی گرایا کرتی تھیں اور ہم کو حضرت صاحب کی طرف سے حکم تھا کہ بولنا نہیں۔حضرت میاں مبارک احمد صاحب جب فوت ہوئے تو ان کا جنازہ مدرسہ احمدیہ کے صحن میں پڑھا گیا اور باغ میں پہنچانے کے لئے مستریوں کے مکان کے پاس سے چونکہ پختہ پل تیار نہ ہوا تھا اس لئے وہاں سکول کی بنچیں اور ڈیسک رکھ کر پل بنایا گیا اور جنازہ گزارہ گیا اور اگلے دن اسے اکھیڑ دیا گیا کیونکہ اس جگہ بہت پانی ہوا کرتا تھا“۔ڈاکٹر صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک ایمان افروز نشان کے چشم دید گواہ تھے جس کی تفصیل یہ ہے کہ ۲۸ فروری ۱۹۰۷ء کی صبح کو حضرت اقدس کو الہاماً بتایا گیا' سخت زلزلہ آیا اور آج بارش بھی ہو گی۔خوش آمدی نیک آمدی حضور نے صبح کو ہی قبل از وقوع یہ خبر تمام جماعت کو سنادی۔اس وقت آسمان پر ایک ناخن کے برابر بھی بادل نہ تھا اور آفتاب اپنی پوری تیزی دکھلا رہا تھا کہ نماز ظہر کے بعد یکا یک بادل آیا اور بارش ہو گئی نیز ۲ - ۳ مارچ ۱۹۰۷ء کی شب کو سخت زلزلہ آیا اور زمین تھرا اٹھی جس کی خبر اخبار سول اینڈ ملٹری گزٹ لاہور ( مورخہ ۱۵ مارچ ۱۹۰۷ ء ) اور اخبار عام لاہور ( مورخہ مارچ ۱۹۰۷ء) میں شائع ہوئی۔سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تمہ حقیقۃ الوحی صفحہ ۵۶ تا ۵۸ میں یہ پوری تفصیل دینے کے بعد ان معزز گواہان روایت کی فہرست دی جن کو ۲۸ فروری ۱۹۰۷ء کی صبح کے وقت یہ پیشگوئی سنائی گئی جبکہ دھوپ صاف طور پر نکلی ہوئی تھی اور آسمان پر سورج چمک رہا تھا اور بادل کا نام ونشان نہ تھا۔ان گواہان روایت میں حضور علیہ السلام نے اپنے قلم مبارک سے آپ کا نام بھی درج فرمایا۔حضور علیہ السلام نے تحریر فرمایا :۔