تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 189 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 189

تاریخ احمدیت۔جلد 28 189 سال 1972ء حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جلیل القدر صحابہ کرام کا انتقال اس سال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعدد جلیل القدر صحابہ کرام انتقال فرما گئے جن کا تذکرہ ذیل میں کیا جاتا ہے۔وفات پانے والوں میں حضرت قاضی محمد عبداللہ بھٹی صاحب کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ وہ ۱۳ ۳ اصحاب کبار میں سے آخری صحابی تھے۔حضرت ڈاکٹر احمد دین صاحب آف کھاریاں ولادت : انداز ۱۸۹۸ء بیعت: پیدائشی احمدی 1 وفات : ۲۸ جنوری ۱۹۷۲ء2 آپ نے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سفر جہلم جنوری ۱۹۰۳ء کے دوران کھاریاں میں پہلی بار شرف زیارت حاصل کیا۔مولوی عبدالکریم صاحب یاد گیر (حیدر آبادی) جن کے وجود میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعا سے اعجازی شفا کا نشان ظہور پذیر ہوا، آپ کے کلاس فیلو تھے۔آپ نے اپنے خود نوشت حالات میں لکھا ہے کہ ”جب حضرت صاحب جہلم تشریف لے گئے تو ایک ہندو ( سردار ہری سنگھ ) کی کوٹھی میں اترے جو دریائے جہلم کے کنارے تھی۔غیر احمدی کثرت سے آئے انہوں نے پتھر برسانے شروع کئے حضرت صاحب بند بگھی میں گئے جس کے آگے ایک گھوڑا تھا جب حضرت صاحب جہلم گئے تو حضور کی آمد کی اطلاع کھاریاں کے اسٹیشن پر ملی تو احمدی زمیندار حضور کے لئے دودھ مکھن لائے اور انہوں نے دودھ حضرت صاحب اور آپ کے صحابہ کو پلایا۔میں جب قادیان آیا تو ان دنوں مولوی شیر علی صاحب ہیڈ ماسٹر تھے مولوی سید سرور شاہ صاحب بورڈنگ کے سپرنٹنڈنٹ تھے۔میں پہلی جماعت میں داخل ہوا۔ہم ان دنوں نماز با قاعدہ پانچوں وقت مسجد (مبارک) میں جا کر ادا کرتے تھے۔مسجد مبارک میں ایک صف کے اندر ۴-۵ آدمی کھڑے ہو سکتے تھے۔مسجد اقصیٰ وہاں تک ہوتی تھی جہاں تک آجکل چھوٹی اینٹیں لگی ہیں۔اس کے ایک سرے پر شہتوت کا درخت تھا جو مسجد سے باہر تھا۔مسجد اقصیٰ کے اردگرد ایک خام دیوار ہوا کرتی تھی۔۔۔عبد الکریم صاحب یادگیری ( حیدرآباد دکن) جنہیں باؤلے کتے نے کاٹا تھا وہ بھی ہمارے ساتھ پڑھا کرتے تھے۔میرے دیکھتے ہی باؤلے کتے نے ان کو مدرسہ احمدیہ کے صحن میں کا ٹا تھا۔میں نے خود دیکھا کہ کتے نے اسے دائیں یا بائیں بازو پر کاٹا بعدہ اسے کسولی بھیجا گیا اور خدا نے بالکل شفادے