تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 133
تاریخ احمدیت۔جلد 28 133 سال 1972ء سلسلہ احمدیہ کی ذیلی تنظیموں میں لجنہ اماء اللہ مرکز یہ پہلی تنظیم تھی جسے سب سے قبل اپنی تاریخ شائع کرنے کی توفیق ملی۔" تاریخ انصار اللہ نومبر ۱۹۷۸ء میں اور تاریخ مجلس خدام الاحمدیہ (جلد اول ) ۱۹۹۱ء میں شائع ہوئی۔مجلہ اور ” لجنہ سپیکس“ کی اشاعت لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کے پچاس سالہ جشن کی بابرکت اور پرمسرت تقریب پر جماعت احمدیہ اور لجنہ کے قیام کی تاریخ ، مقاصد اور کارناموں سے روشناس کرانے کے لئے اردو اور انگریزی میں مندرجہ ذیل دوسو نیئر شائع کئے گئے جو قیمتی معلومات سے لبریز تھے۔مجلہ (اردو) کل صفحات ۹۶۔یہ رسالہ سیدہ نسیم سعید صاحبہ ایم اے کی محنت و کاوش کا نتیجہ تھا اور روح پرور پیغامات، فکر انگیز مضامین، ایمان پرور نظموں اور نایاب تصاویر کا حسین مرقع تھا جس پر نہ صرف جماعت کے ممتاز اہل قلم نے خراج تحسین ادا کیا بلکہ پاکستان کے مقتدراردو رسالہ ”انقلاب نو“ نے اسے بہت سراہا۔چنانچہ لکھا:۔مسلمان خواتین کی ایک عالمی تنظیم لجنہ اماء اللہ کا شائع کردہ مجلہ تبصرہ کے لئے اس وقت ہمارے سامنے ہے۔لجنہ اماءاللہ ایک عربی ترکیب ہے جس کا مطلب ”اللہ کی کنیزیں“ ہے۔یہ مجلہ اس تنظیم کی پنجاہ سالہ سرگرمیوں کا ایک مختصر جائزہ ہے جو اس نے اپنے جشنِ پنجاه سالہ کی تقریب پر شائع کیا ہے۔دنیا کے مختلف ممالک میں اس کی ۶۶۲ شاخیں کام کر رہی ہیں۔ہر قوم کے معاشرے میں عورت بڑا اہم کردار ادا کرتی رہی ہے بالخصوص اسلام کی نشاۃ اولی میں صحابیات نے معاشرہ کو پاک بنانے اور اسے پاکیزہ رکھنے میں جو حصہ لیا وہ تاریخ اسلام کا ایک سنہری باب ہے لیکن زمانہ جیسے جیسے اسلام کی نشاۃ اولیٰ سے دور ہوتا چلا گیا عورت بھی ان اعلیٰ اقدار سے پھر تہی دست ہوتی گئی یہاں تک کہ مغربی تہذیب کے غلبہ نے عورت کی سیرت کا وہ حلیہ بالکل بگاڑ دیا۔جماعت احمدیہ کے امام حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے اس صورتحال کو بھانپ کر اس کا مؤثر سد باب کرنے کا اہتمام کر دیا۔انہوں نے دسمبر ۱۹۲۲ء میں احمدی خواتین کی ایک تنظیم لجنہ اماءاللہ کے نام سے قائم کر دی جس کی صدر آپ کی بیوی سیدہ ام ناصر صاحبہ بنیں۔سیدہ امتہ الحی صاحبہ، سیدہ اُمّم طاہر صاحبہ، سیدہ ام متین صاحبہ ان کا ہاتھ بٹاتی رہیں۔۱۹۵۹ء سے لے کر اب