تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 134 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 134

تاریخ احمدیت۔جلد 28 134 سال 1972ء تک سیدہ مریم صدیقہ اُتم متین صاحبہ اس کی صدر ہیں۔صدارت کی ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے سولہ سال آپ اس تنظیم کی جنرل سیکرٹری رہیں۔اس تنظیم کا مقصد تھا:۔کوئی (احمدی) خاتون، کوئی بچی، کوئی بہن، کوئی بیٹی دینی علوم، دینی تربیت، دینی درس و تدریس، تحریر و تقریر میں کسی سے پیچھے نہ رہے۔اس خاص تنظیم کے تحت ہماری خواتین ، ہماری بچیاں اور بہنیں تمام کی تمام دنیا بھر کی خواتین کے مقابلہ میں ان معنوں میں معیاری حیثیت رکھنے والی ہوں۔وہ اعلیٰ اخلاق و کردار کی مالک ہوں نہ صرف یہی کہ وہ خودان نمایاں خصوصیات کی حامل بنیں بلکہ اپنے ان اعلیٰ اور نمایاں اخلاق و کردار سے اقوام عالم کی تمام خواتین کی حقیقی معنوں میں رہنما کہلانے والی ہوں۔تازہ ترین اعداد کے مطابق دنیا میں احمدی مسلمانوں کی تعداد ایک کروڑ سے کچھ اوپر ہے۔جہاں جماعت احمدیہ کے مردوں نے دنیا کے مختلف ممالک میں پونے چارسومساجد تعمیر کیں۔پچاس کے قریب ممالک میں اپنے اسلامی تبلیغی مشن قائم کئے اور تقریباً سولہ زبانوں میں قرآن پاک کا ترجمہ کیا جن میں انگریزی، جرمن ، روسی ، ڈچ ، اٹالین، انڈونیشین، اسپرانٹو سواحیلی وغیرہ شامل ہیں وہاں احمدی خواتین نے اپنی اس تنظیم کے ذریعہ یورپ میں تین مساجد لندن، ہیگ (ہالینڈ)، کوپن ہیگن (ڈنمارک) میں لاکھوں روپے کے صرف سے تعمیر کرائیں اور چار تعلیمی ادارے نصرت انڈسٹریل سکول، فضل عمر ماڈل ہائی سکول ربوہ ، مریم مڈل سکول گھٹیالیاں (ضلع سیالکوٹ ) ، چک منگلا پرائمری سکول ( سرگودہا) قائم کر کے انہیں چلا رہی ہے۔اس کے علاوہ نصرت گرلز کالج ربوہ کا سائنس بلاک نمیر کرایا۔اب لجنہ اماء اللہ ایک لاکھ روپے سے ایک اور زبان میں قرآن پاک کا ترجمہ کرانے کا منصوبہ بنا چکی ہے۔حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب امام جماعت احمدیہ نے احمدی خواتین کی بر وقت تنظیم کر کے جو کام اس سے لینا چاہا اور ان کی وفات کے بعد جماعت احمدیہ کے موجودہ امام حضرت مرزا ناصر احمد صاحب نے اس تنظیم میں نئی روح پھونک کر جو تو قعات اس سے وابستہ کیں وہ بہ تمام و کمال پوری ہوگئی معلوم ہوتی ہیں اس لئے کہ:۔(۱) جماعت احمدیہ کی تقریباً سو فیصد خواتین خواندہ ہیں۔(۲) تمام احمدی بچے بچیاں ، عورتیں ناظرہ قرآن پڑھی ہوئی ہیں۔