تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 132
تاریخ احمدیت۔جلد 28 132 سال 1972ء پس منظر جیسا کہ تاریخ احمدیت جلد پنجم میں ذکر آ چکا ہے۔لجنہ اماءاللہ کی بنیاد حضرت مصلح موعود کے دست مبارک سے ۲۵ دسمبر ۱۹۲۲ء کو رکھی گئی۔حضرت سیّدہ اُمّم ناصر صاحبہ قیام لجنہ سے اپنی وفات (۳۱ جولائی ۱۹۵۸ء) تک (۱۹۴۲ء سے ۵ مارچ ۱۹۴۴ ء تک کے اس عرصہ میں حضرت سیدہ ام طاہر صاحبہ نے صدر لجنہ کے فرائض انجام دئے) قریباً چھبیس سال تک لجنہ اماءاللہ کی صدارت کے عہدہ پر فائز رہیں۔آپ کی وفات کے بعد ۱۹۵۸ ء سے اس کی زمام صدارت اتم متین حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ کے سپرد ہوئی۔جس کے بعد خواتین احمدیت کی دینی سرگرمیوں اور قربانیوں کی رفتار میں مزید غیر معمولی تیزی پیدا ہو گئی۔اپنی کامیاب قیادت کے دسویں سال آپ نے دنیا بھر کی لجنات کے سامنے ۱۹۷۲ ء میں پنجاه سالہ جشن منانے کی تجویز پیش کی اور اس کے ساتھ ہی چندہ تحریک خاص کی تحریک فرمائی جس کے تین بنیادی مقاصد تھے۔اول۔تاریخ لجنہ اماءاللہ کی تدوین و اشاعت ہو۔دوم۔اشاعت قرآن عظیم کے لئے سیدنا حضرت خلیفہ امسیح الثالث کی خدمت میں ایک لاکھ روپے کی پیشکش کی جائے۔سوم۔چار لاکھ روپے لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کے دفتر ، ہال، مہمان خانہ اور نصرت انڈسٹریل سکول کی تعمیرات پر خرچ کئے جائیں۔128 اس تحریک پر لجنہ کے ہر حلقے کی طرف سے پُر جوش خیر مقدم کیا گیا۔جن مخلص خواتین احمدیت نے اس میں حصہ لیا۔ان کے اسماء بالاقساط رسالہ مصباح میں محفوظ کر دیئے گئے۔اس تحریک کے مطابق ۱۹۷۲ ء تک تاریخ لجنہ اماء اللہ کی تین جلدیں زیور طبع سے آراستہ ہوئیں جن کو قبولِ عام کی سند حاصل ہوئی۔ان میں سے پہلی اور تیسری حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ کے قلم سے تھی اور جلد دوم کی تالیف و ترتیب آپ ہی کی نگرانی میں امتہ اللطیف صاحبہ سیکرٹری شعبہ اشاعت لجنہ اماءاللہ مرکزیہ نے انجام دی۔ان تین جلدوں میں لجنہ اماءاللہ کی پچاس سالہ تاریخ پایہ تکمیل کو پہنچی۔چند سال بعد حضرت سیدہ موصوفہ کی رقم فرمودہ چوتھی جلد بھی منظر عام پر آگئی جو ۱۹۷۲ء سے ۱۹۷۷ء تک کے حالات پر مشتمل تھی۔(اب پانچویں جلد مشتمل بر حالات سال ۱۹۷۸ ء تا جون ۱۹۸۲ء بھی شائع ہو چکی ہے۔)