تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 116 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 116

تاریخ احمدیت۔جلد 28 116 سال 1972ء میں ان کی نسبت ۱/۱۰ ہے۔کہنے لگے نہیں احمدی ووٹر سات ہزار نہیں نو ہزار ہیں۔میں نے کہا اگر نو ہزار ہیں تب بھی کیا فرق پڑتا ہے۔کہنے لگے فرق یہ پڑتا ہے کہ ہم نے سر جوڑے اور غور کیا اور آپس میں مشورے کئے اور حالات کا اندازہ لگایا تو ہم اس نتیجہ پر پہنچے کہ آپ کے ساتھ ۲۷ ہزار ووٹ ہے کیونکہ 9 ہزار آپ کا اور ۱۸ ہزار آپ اپنے ساتھ لے کر آئیں گے اور ساٹھ ستر ہزار کے حلقے میں ۲۷ ہزار ووٹ بڑی اہمیت رکھتے ہیں اس لئے یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ جس امیدوار کی طرف یہ ووٹ جائیں وہ ہار جائے۔پس میں اپنے دوستوں سے یہ کہتا ہوں کہ آپ خوامخواہ کیوں گھبراتے ہیں۔اگر یہ عوامی حکومت ہے اور آپ عوام ہی کا ایک حصہ ہیں تو یہ آپ کی حکومت ہے۔اب جس حلقہ انتخاب میں ستائیس ہزار ووٹ کسی امیدوار کو احمدیت کی وجہ سے ڈالے گئے ہیں وہاں کے عوام جا کر اس کی گردن پکڑیں گے کہ تم کیوں غلط کام کر رہے ہو۔پس اس لحاظ سے ۲۲لاکھ ووٹر سارے احمدی تو نہیں مگر کچھ احمد یوں کے اور کچھ ان کے ساتھ تعلق رکھنے والے، سمجھدار اور صاحب فراست اور صاحب شرافت دوستوں کے، دونوں کی مل کر تعداد کم و بیش اتنی ضرور ہوگی۔واللہ اعلم بالصواب۔اس لئے ہمیں اپنے تعلیمی اداروں کے قومی تحویل میں چلے جانے کی وجہ سے گھبرانے کی کیا ضرورت ہے۔یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اس علاقہ کے عوام کی مرضی کے خلاف ان تعلیمی اداروں کی روایات توڑ دی جائیں اور کوئی اور پالیسی اختیار کی جائے۔اگر ایسا ہوا تو ہمارے یہاں کے عوام کہیں گے کہ نہیں ایسا نہیں ہو سکتا جس طرح ہماری مرضی ہوگی اس طرح کالج چلے گا کیونکہ اگر عوامی حکومت نے عوامی حکومت رہنا ہے تو پھر یہاں کے عوام کی مرضی کے مطابق کالج چلے گا۔فرض کریں ہمارے کا لج میں کوئی بڑا اسخت متعصب پر نسپل آجاتا ہے تو وہ بھی کالج کو اپنی مرضی کے مطابق نہیں چلا سکتا کیونکہ ربوہ کے عوام کا یہ تقاضہ ہوگا کہ اس طرح کالج کو چلا ؤ اور عوامی حکومت کو ماننا پڑے گا یا عوامی حکومت کو حکومت چھوڑنا پڑے گی یا یہ اعلان کرنا پڑے گا کہ اب ان کی حکومت عوامی حکومت نہیں رہی اس لئے دوستوں کو قطعاً گھبرانا نہیں چاہیے۔