تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 117 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 117

تاریخ احمدیت۔جلد 28 117 سال 1972ء میں نے ضمنا یہ بات بتادی ہے کیونکہ کئی دوست آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اب کیا ہوگا۔یہ سوچنے کی کیا ضرورت ہے کہ اب کیا ہوگا۔اب وہی ہوگا جو خدا تعالیٰ چاہے گا ہم نے خود آخر کیا کرنا ہے۔اگر ہم نے مل کر اور سر جوڑ کر احمدیت کو بنایا ہوتا تو ہمارے دل میں یہ سوال پیدا ہونا چاہیے تھا کہ اب کیا ہو گا لیکن کیا تم نے سلسلہ عالیہ احمدیہ کو قائم کیا ہے؟ اور اس کو چلا رہے ہو؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو پھر جس نے یہ سلسلہ بنایا ہے وہ ہمارے اس سلسلہ کے کام بنانے والا ہے ہمیں تو کوئی فکر نہیں کرنی چاہیے۔ہمیں اگر کوئی فکر ہے تو اس بات کا فکر ہے کہ جن قربانیوں کا ہم سے مطالبہ کیا جا رہا ہے ہم ان کو لفظ اور معناً پورا کرنے والے ہوں۔چنانچہ آج تک احمدیت کے حق میں جو نتیجے نکلتے رہے ہیں وہ ہمیشہ ہی اللہ تعالیٰ کے پیار کو ظاہر کرتے رہے 66 ہیں۔113 قومیائے گئے احمد یتعلیمی ادارے اس پالیسی کے تحت جماعت کے مندرجہ ذیل تعلیمی ادارے قومی تحویل میں لے لئے گئے۔ا تعلیم الاسلام ہائی سکول بشیر آباد (سندھ) تعلیم الاسلام ہائی سکول محمد آباد (سندھ) اس کے علاوہ پنجاب کے درج ذیل تعلیمی ادارے قومیائے گئے۔ا تعلیم الاسلام ( پرائمری و ہائی سکول ربوہ ۲۔نصرت گرلز ( پرائمری وہائی) سکول ربوہ ۳ فضل عمر ہائی سکول ربوہ م تعلیم الاسلام ہائی سکول کھاریاں گجرات ۵ - احمد یہ پرائمری سکول شادیوال گجرات تعلیم الاسلام پرائمری سکول چوکنا نوالی گجرات تعلیم الاسلام ہائی سکول گھٹیالیاں سیالکوٹ ۸۔احمد یہ گرلز ہائی سکول سیالکوٹ شہر