تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 115
تاریخ احمدیت۔جلد 28 115 سال 1972ء کالج یکم ستمبر ۱۹۷۲ ء سے سرکاری تحویل میں لے لئے جائیں گے اور ان کا کوئی معاوضہ ادا نہیں کیا جائے گا۔112 پیپلز پارٹی کی عوامی حکومت نے دوسرے تعلیمی اداروں کی طرح جماعت احمدیہ کے سب مرکزی تعلیمی اداروں کو بھی قومی تحویل میں لے لیا تھا جس سے جماعت کے حلقوں میں پریشانی کا پیدا ہونا ایک طبعی امر تھا جس پر سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے اپنی خداداد فراست و بصیرت سے احباب جماعت کی کامیاب راہنمائی کی اور ۵ اکتوبر ۱۹۷۲ء کو اجتماع مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے افتتاحی خطاب میں فرمایا:۔”ہمارے کچھ حالات تو اس طرح بدلے کہ ہماری موجودہ حکومت جو اپنے آپ کو عوامی حکومت کہتی ہے اس نے ہمارے تعلیمی اداروں کو بھی Nationalise کرلیا یعنی قومی تحویل میں لے لیا جس سے کچھ احمدی گھبرا جاتے ہیں۔میں ایسے دوستوں کو کہتا ہوں اگر یہ واقعی عوامی حکومت ہے تو پھر یہ ہماری اپنی حکومت ہے کیونکہ ہم بھی عوام ہیں اور عوام ہی ہیں جنہوں نے زیادہ تر ووٹ دے کر یا دوسروں سے دلوا کر ان لوگوں کو منتخب کروایا تھا جن کی آج حکومت ہے۔چنانچہ حزب مخالف نے ایک موقع پر کہا تھا کہ ۲۲ لاکھ احمدی ووٹوں کے نتیجہ میں پیپلز پارٹی جیت گئی۔میں نے تو اس سلسلہ میں اعداد و شمار اکٹھے نہیں کروائے مگر میں سمجھتا ہوں کہ جہاں تک احمدی رائے دہندگان کی تعداد کا تعلق ہے انہوں نے مبالغہ کیا ہے احمدی ووٹروں کی تعداد لاکھ نہیں ہے لیکن ایک اور حقیقت بھی کارفرما ہے اور یہ اعداد و شمار اس حقیقت کے۔بہت قریب معلوم ہوتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ باوجود اس کے کہ پارٹیشن کے وقت جماعت کو ایک بڑا دھکا لگا تھا۔پھر بھی ہر احمدی ووٹر کم از کم دو غیر احمدی دوست بطور ووٹر اپنے ساتھ رکھتا ہے۔چنانچہ عام انتخابات سے پہلے ایک دوست مجھے ملنے آئے وہ گجرات کے ایک حلقے میں امیدوار تھے کہنے لگے آپ مجھے ووٹ دیں۔میں نے کہا کہ آپ کے اس حلقہ میں ساٹھ ستر ہزار ووٹ ہیں جبکہ ہمارے احمدی دوستوں کے ووٹ کے ہزار کے لگ بھگ ہیں۔یہ اگر تمہیں ووٹ نہ بھی دیں تو کیا فرق پڑتا ہے۔ستر ہزار ووٹوں