تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 103 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 103

تاریخ احمدیت۔جلد 28 103 سال 1972ء احسان نہیں چھین سکیں۔چنانچہ کل تک جو لوگ ہمیں گالیاں دیتے ہیں۔آج اگر ان کی کوئی ضرورت انہیں ہمارے پاس لے آئے تو ہم جائز حد تک ان کی مدد کرنے میں کبھی دریغ نہیں کرتے کیونکہ ہمیں کسی سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔91 ۴۔حضور انور نے دوران گفتگو اردو زبان کے بارہ میں فرمایا کہ اردو ایک بین الاقوامی زبان ہے۔حضور انور نے اس بارہ میں فرمایا کہ موجودہ حالات میں ہمارے سیاسی راہنماؤں کو اپنی اپنی پارٹی کے مخصوص نظریات سے بالا رہ کر ملک کی بقا اور سلامتی اور استحکام کے لئے نہایت حزم واحتیاط اور اتحاد و یگانگت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔فرمایا زبان کے مسئلہ پر موجود ہنگامہ آرائی سے وطن دشمن عناصر کو تقویت ملے گی۔ذرا ذراسی باتوں پر خونریز فسادات دراصل پاکستان کو تباہ کرنے کے مترادف ہیں۔زبان تو کسی کی گڈی سے پکڑ کر باہر نہیں نکالی جاسکتی۔اردو بولنے والے اردو بولیں گے اور سندھی بولنے والے سندھی۔تاہم جہاں تک اردو کی قومی حیثیت کا تعلق ہے اسے تو کوئی بدل نہیں سکتا کیونکہ اس کا حلقہ اثر صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ ایک لحاظ سے یہ بین الاقوامی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔غیر ملکوں میں احمدیت کے ذریعہ جو لوگ مسلمان ہوتے ہیں انہیں سلسلہ احمدیہ کے اخبارات اور دوسرے لٹریچر پڑھنے کے لئے اردو سیکھنی پڑتی ہے چنانچہ اب تک کئی انگریز ، افریقن ، انڈو نیشین اور دوسرے غیر ملکی دوست اچھی طرح اردو بول اور بعض تو لکھ بھی سکتے ہیں۔92 ۵۔ڈاکٹر مسعود الحسن نوری صاحب 9 جولائی کو اپنے ایک ڈاکٹر دوست کے ساتھ حضور کی خدمت میں حاضر تھے۔حضور نے ان سے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا۔پچھلے سال گھوڑے سے گرنے اور پھر ڈاکٹری ہدایت کے ماتحت لگا تار کئی ہفتے لیٹے رہنے کی وجہ سے میرے گھٹنے سخت ہو گئے۔میرے لئے قعدہ میں بیٹھنا مشکل ہو گیا۔مسجد میں جانا اور دوستوں سے ملنا بند ہو گیا تو یہ امر میرے لئے دو ہری تکلیف کا موجب بن گیا۔میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے قدرتوں والے خدا! اگر تو سمجھتا ہے کہ میری زندگی میرے لئے اور جماعت کے لئے فائدہ مند ہے تو تو مجھے شفا بخش۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے پنے فضل سے مجھے صحت عطا فرمائی۔حالانکہ بیماری کے دوران کئی ڈاکٹروں کی یہ رائے تھی کہ گھٹنوں کی یہ بختی مستقل تکلیف بن جائے گی۔فرمایا انسان نے میڈیکل سائنس میں خواہ کتنی ہی ترقی کیوں نہ کی ہو۔پھر بھی ڈاکٹر کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ مریض کو شفا دینا تو کجا اس کی صحیح تشخیص اور اس کے مناسب حال نسخہ لکھنا بھی اللہ تعالیٰ کی توفیق کے بغیر ممکن نہیں۔اللہ تعالیٰ شافی مطلق ہے۔اس کے اذن اور اس