تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 102
تاریخ احمدیت۔جلد 28 102 سال 1972ء دھارا ان پتھروں پر اپنے حسین نقوش چھوڑنے میں کس قدر وقت چاہتا ہے۔فرمایا اب احمدیت کے ذریعہ اسلام نے دنیا میں غالب ہو کر رہنا ہے مگر اس کے لئے احباب جماعت کو اولی الایدی والابصار یعنی فعال اور دور اندیش بنا پڑے گا۔اگر سارے احمدی اس روح کے ساتھ کام کریں تو ہم دنیا میں اسلام کے حق میں ایک حیرت انگیز انقلاب بپا کر سکتے ہیں۔89 ۲ - ( مورخہ ۵ جولائی) مغرب کی نماز میں کیڈٹس کا ایک گروپ بھی شامل تھا جن کی عنقریب پاسنگ آؤٹ پریڈ ہونے والی تھی۔نماز کے بعد حضور نے ان سے مصافحہ کیا اور تھوڑی دیر تک ان سے گفتگو فرماتے رہے۔اس موقع پر حضور نے ان سے فرمایا کہ جس طرح ہیرے کی خوبیوں کو نمایاں کرنے کے لئے اس کی تراش خراش کے بعد اس میں چمک دمک پیدا کی جاتی ہے اسی طرح آپ کے اندر نظم وضبط اور شجاعت و استقامت پیدا کرنے کے لئے آپ کو سخت سے سخت اور زیادہ سے زیادہ ٹریننگ دی جاتی ہے۔فرمایا پچھلے سال قیادت کی نا اہلی اور ناعاقبت اندیشی کی وجہ سے وطنِ عزیز کو ذلت اور شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ہزیمت کے اس داغ کو مٹانے ، ملک کے وقار کو بحال کرنے اور اسے چار دانگ عالم میں شہرت بخشنے کے لئے نوجوان نسل پر خصوصاً بہت بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔چنانچہ اس سے پہلے عام انتخابات کے موقع پر بھی نوجوان اپنے فیصلہ کن کردار کا مظاہرہ کر چکے ہیں۔آپ بھی عنقریب میدانِ عمل میں اترنے والے ہیں۔ساری قوم آپ کے لئے دعا گو ہے۔جرات مندانہ اقدام اور پیشہ وارانہ مہارت کے شاندار مظاہرے کی بدولت آپ کو قوم کی توقعات پر پورا اترنا چاہیے۔فرمایا: آپ میری اس نصیحت کو پلے باندھ لیں کہ قرآن کریم ہر خیر اور برکت کا سرچشمہ ہے۔آپ جہاں کہیں بھی ہوں اس کو حرز جان بنائے رکھیں اور اس کی برکات سے مقدور بھر فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے رہیں۔90 ۳۔حضور انور نے مورخہ 9 جولائی ۱۹۷۲ء کو احباب جماعت کو شرف مصافحہ بخشا اور بیش قیمت نصائح اور زریں ارشادات سے نوازا۔گذشتہ عام انتخابات میں بعض لوگوں کی غیر معمولی کامیابی کے ذکر پر حضور انور نے احباب جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا۔ناممکن کاممکن میں بدل جانا اللہ تعالیٰ کے فضل پر منحصر ہے۔اللہ تعالیٰ کی تقدیر کے سامنے نہ کسی کا اثر ورسوخ چلتا ہے اور نہ مال و دولت سے کام بنتا ہے۔یہ انتخابات مذہبی مسئلہ تو نہیں تھے خالصتہ سیاست تھی جس میں اگر کسی کو فتح ہوئی ہے تو وہ اصول کی فتح ہے۔فرمایا احمدی متعصب نہیں ہوتے۔لوگوں کی گالیاں ہم سے قوتِ