تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 97
تاریخ احمدیت۔جلد 28 97 سال 1972ء ۷۶ - ۱۹۷۵ء میں نائب صدر مولا نا فضل الہی صاحب انوری کی زیر نگرانی خدام الاحمد یہ جرمنی اپنے فرائض انجام دیتی رہی۔۱۹-۱۸ اکتوبر ۱۹۷۵ء کو مجلس خدام الاحمدیہ جرمنی کا دوسرا سالانہ اجتماع منعقد ہوا۔اس اجتماع میں ۱۵۰ کے قریب خدام نے شرکت کی۔۱۹۷۵ء میں ہی مغربی جرمنی میں اطفال کی باقاعدہ تنظیم کا قیام عمل میں آیا۔80 نوٹ: اس سے اگلے سالوں کی مختصر تاریخ متعلقہ جلدوں میں بیان کی جائے گی۔انشاء اللہ حضرت خلیفہ المسح الثالث کا سفرایبٹ آباد اور اہم دینی مصروفیات اس سال کا ایک یادگار واقعہ سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثالث کا سفر ایبٹ آباد ہے جو ۲۲ جون ۱۹۷۲ء سے شروع ہو کر ا ا ستمبر ۱۹۷۲ء کو بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوا۔اس عرصہ کے دوران حضور انور ۲۰ جولائی کی شام ربوہ آگئے اور ۲۴ جولائی کی صبح پھر ایبٹ آباد تشریف لے گئے۔نیز ۲۳ تا ۳۰/ اگست ر بوه تشریف فرما ر ہے۔اس سفر میں حضرت سیدہ منصورہ بیگم صاحبہ، صاحبزادہ مرزا منور احمد صاحب، بیگم صاحبزادہ مرزا لقمان احمد صاحب اور مولوی عبد الحکیم صاحب اکمل ( پرائیویٹ سیکرٹری ) کو ہمرکابی کا شرف حاصل ہوا۔حضور کا قیام سعید ہاؤس میں تھا۔81 قریباً سوا دو ماہ کا یہ کلبی سفر نہ صرف ایبٹ آباد اور اس کے ماحول کی خوش نصیب جماعتوں کے لئے بلکہ جماعت احمدیہ پاکستان کے لئے بہت سی برکتوں اور فضلوں کا موجب ثابت ہوا۔قیام ایبٹ آباد کے دوران حضرت امام ہمام کی دینی مصروفیات پورے عروج پر رہیں اور ایبٹ آباد کی سرزمین حضور کے پر معارف خطبات جمعہ اور ایمان پرور مجالس عرفان کے باعث انوار قرآنی اور فیضان آسمانی کا گویا مرکز بنی رہیں۔خطبات جمعہ سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے ایبٹ آباد میں متعد دروح پرور خطبات جمعہ ارشاد فرمائے جو نہایت اہم دینی و روحانی مباحث پر مشتمل تھے۔چنانچہ ۳۰ جون کے خطبہ جمعہ میں فضل عمر تعلیم القرآن کلاس کے پیش نظر احباب جماعت کو توجہ دلائی کہ قرآن کریم کی فقط تلاوت ہی کافی نہیں بلکہ ضروری ہے کہ ہمیں اس سے دلی لگاؤ ہو اور ہم اس کا اثر قبول کریں اور اس کے لئے خشیت الہی اور