تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 96 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 96

تاریخ احمدیت۔جلد 28 96 سال 1972ء صاحب جہلمی انچارج مشن کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔مجلس کے قیام کے وقت خدام کی تعداد پندرہ کے قریب تھی۔مجلس کے اولین قائد ڈاکٹر عبدالرؤف خان صاحب تجویز کئے گئے۔تنظیم کے آغاز کے ساتھ ہی سے ستمبر ۱۹۷۲ء کو حضرت چوہدری سر محمد ظفر اللہ خان صاحب فرینکفورٹ تشریف لائے تو آپ کے قیام اور دیگر انتظامات کی تکمیل کی سعادت مجلس خدام الاحمدیہ جرمنی کو حاصل ہوئی۔فرینکفورٹ میں مجلس خدام الاحمدیہ کے قیام کے ایک سال بعد خدا تعالیٰ کا فضل ایک نئے رنگ میں ظاہر ہوا اور ہمبرگ میں مجلس خدام الاحمدیہ کا قیام عمل میں آیا اور یہاں قیادت کا اعزاز سردار لطیف صاحب کو حاصل ہوا۔۱۰ ۱۱ جون ۱۹۷۲ء کو مجلس خدام الاحمدیہ جرمنی کا سب سے پہلا دوروزہ سالانہ اجتماع مسجد نور فرینکفورٹ میں منعقد ہوا۔اس اجتماع میں ۷۰ خدام نے شرکت کی۔سویڈن اور ڈنمارک کے مبلغین سلسلہ بھی اس اجتماع میں شریک ہوئے۔۲۲ اگست ۱۹۷۳ء کو حضور انور جرمنی کے دورہ پر تشریف لائے۔ان ایام میں آپ کے قیام و طعام اور دیگر انتظامات کی تعمیل کی توفیق بھی مجلس خدام الاحمدیہ جرمنی کو عطا ہوئی۔۱۹۷۳ء میں مشنری انچارج و نائب صدر مکرم فضل الہی صاحب انوری کی زیر نگرانی قیادت کی طرف سے پاکستان میں سیلاب زدگان اور بھارت میں قید جنگی قیدیوں کی رہائی کے سلسلہ میں تمام جرمنی میں پاکستانی سفارتخانہ کی درخواست پر تحریک چلائی گئی۔۷۴-۱۹۷۳ء میں مجلس خدام الاحمدیہ مغربی جرمنی کے دوسرے قائد مکرم خلیفہ فلاح الدین صاحب منتخب ہوئے۔اس دور میں شعبہ وقار عمل کے تحت مسجد اور مشن ہاؤس کی تزئین نو کا کام کیا گیا۔۱۹۷۴ء کا سال جماعت احمدیہ پاکستان کے لئے ابتلاؤں کا سال تھا۔اپنے وطن میں غریب الوطنی کے حالات میں بعض احمد یوں نے دوسرے ممالک کا رخ کیا جن میں سے چند احباب جرمنی کے لئے عازم سفر ہوئے اور یوں اس سال خدام کی تعداد میں خاصا اضافہ ہوا۔مجلس خدام الاحمدیہ مغربی جرمنی کے تیسرے قائد مکرم شاہد احمد صاحب مقرر ہوئے۔اس دور میں خدام الاحمدیہ کے تحت سٹالز کے ذریعہ تبلیغ کا آغاز ہوا۔فرینکفرٹ میں منعقدہ سالانہ عالمی نمائش کتب میں مکرم ہدایت اللہ صاحب ھیو بش اور ان کی اہلیہ صاحبہ نے کھڑے ہو کر Cyclostyle فولڈرز کے ذریعے احمدیت یعنی حقیقی اسلام کا پیغام جرمن احباب تک پہنچایا۔