تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 98
تاریخ احمدیت۔جلد 28 98 سال 1972ء محبت الہیہ ذاتیہ نہایت ضروری ہے۔82 2 جولائی کو اس حقیقت پر دلآویز رنگ میں روشنی ڈالی کہ جماعت احمدیہ کو خدا نے قرآن کریم کی عظمت کو دنیا میں دوبارہ قائم کرنے کے لئے پیدا کیا ہے اور اس کی اشاعت کی تکمیل کرنا جماعت کی اہم ذمہ داری ہے نیز اس شدید خواہش کا اظہار فرمایا کہ آئندہ پانچ سال میں قرآن کریم کی دس لاکھ کا پیاں دس لاکھ گھروں میں پہنچ جائیں۔۱۴83 جولائی کے خطبہ جمعہ کا خلاصہ یہ تھا کہ قرآن کریم کا دعویٰ ہے کہ وہ ہر ضرورت کو پورا کر نیوالا اور اس کے درخت وجود کی ہر شاخ کی پرورش کرنے والا ہے لہذا ہر احمدی کا فرض ہے کہ وہ اس عظیم کتاب پر غور کرے اور اسی میں سے اپنی تمام لذتوں کے سامان تلاش کرے۔۲۸84 جولائی کو حضور نے اسلامی معاشرہ کے اس اہم پہلو پر خاص طور پر زور دیا کہ فتنہ و فساد اسلامی شریعت اور فطرتِ صحیحہ کے سراسر خلاف ہے۔اللہ تعالیٰ ہرگز اس کی اجازت نہیں دیتا کیونکہ اس سے انسان کی وہ استعداد میں ختم ہو جاتی ہیں جو صفاتِ الہیہ کے مظہر ہونے کی حیثیت سے اسے حاصل ہیں۔85 اراگست کا بصیرت افروز خطبہ جمعہ بھی ۲۸ جولائی کے خطبہ کے تسلسل میں تھا جس میں حضور نے مزید بتایا کہ آج کی دنیا میں سب سے زیادہ مظلوم و مقہور ہستی مزدور ہے اور اس کا سچا ہمدرد صرف اسلام اور قرآن کریم کی حسین تعلیم ہے۔حضور انور نے فرمایا کہ آجکل آجر اور اجیر یعنی مالک اور مزدور اور حکومت اور حزب مخالف کے درمیان اکثر جھگڑے یھلک الحرث والنسل“ کے مصداق ہیں۔حرث کے معنی مادی ذرائع پیداوار کے بھی ہیں اور نسل اُس محنت اور کوشش کو بھی کہتے ہیں جس سے ذرائع پیداوار کو بروئے کا رلایا جاتا ہے۔دونوں کے ملاپ پر انسان کی فلاح کا دارو مدار ہے۔اب اگر ایک کارخانہ بند رہتا ہے تو اس عرصہ کی متوقع پیداوار سے ملک محروم ہو گیا۔دوسرے اس عرصہ میں مزدور کو اس کی محنت کا جو پھل ملنا تھا اس سے مزدور محروم ہو گیا۔اس سے دو طبقوں کے درمیان مزید بے چینی اور نفرت پیدا ہو جاتی ہے۔فرمایا اسلام یہ کہتا ہے کہ مزدور کے سارے حقوق ادا کر ولیکن ساتھ ہی اسلام یہ بھی کہتا ہے کہ مالک کے حقوق بھی ادا کرو۔اس واسطے نہ کارخانے دار سے پیار کیا گیا ہے اس کے مالک ہونے کے لحاظ سے، اور نہ مزدور سے پیار کیا گیا ہے اس کے مزدور ہونے کے لحاظ سے۔اسلام نے ہمیں پیار سکھایا ہے اپنے انسانی بھائی سے، انسان اور اشرف المخلوقات ہونے کے لحاظ سے اور یہی وہ حکیمانہ راہ ہے جس سے دونوں طبقوں میں تلخی کم ہو جاتی ہے۔مزید فر ما یا کہ اس وقت یہ فساد عالمگیر صورت اختیار کر گیا ہے جس سے ہمارا ملک بھی محفوظ نہیں۔