تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 86 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 86

تاریخ احمدیت۔جلد 27 86 سال 1971ء بھارت کی تازہ ترین اور سنگین جارحیت ہمارے خلاف سب سے بڑا اور آخری وار ہے۔ہم نے بہت برداشت کیا لیکن اب وہ گھڑی آن پہنچی ہے کہ ہم دشمن کو منہ توڑ جواب دیں۔پاکستان کے ۱۲ کروڑ مجاہد و تمہیں خدا کی تائید و نصرت حاصل ہے۔تمہارے دل رسول کریم سلام کی محبت سے سرشار ہیں۔دشمن نے ایک بار پھر ہماری غیرت کو للکارا ہے۔ایک جان ہو کر اٹھو اور دشمن کے مقابلہ میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جاؤ۔جنگ میں فتح محض سازو سامان اور تعداد کی کثرت سے نہیں بلکہ ایمانی قوت، اعلیٰ مقاصد اور نصرت خداوندی سے ہوتی ہے۔میرے عزیز ہم وطنو میرے بری ، بحری اور فضائی افواج کے پیارے مجاہد و آزمائش کی ایسی گھڑی میں تو میں اپنے مقدر کا ستارہ بن کر چمکتی ہیں۔قومی اتحادر کھئے۔اور اللہ کے وعدہ پر یقین رکھئے۔آگے بڑھو اور دشمن پر کاری ضرب لگاؤ۔اللہ ہمارے ساتھ ہے۔84 بنگلہ دیش کا قیام صدر پاکستان جنرل آغا محمد یحیی خان کے خطاب کے صرف ایک دن بعد ہی ۶ دسمبر ۱۹۷۱ ء کو بھارت نے مشرقی پاکستان کو بطور بنگلہ دیش تسلیم کر لیا۔جس پر حکومت پاکستان نے بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کر دیئے۔اور سرکاری بیان جاری کیا کہ بھارت کو پاکستان سے اول دن سے ہی جو شدید نفرت ہے یہ اس کی انتہاء ہے کہ اس نے نام نہاد بنگلہ دیش کو تسلیم کر کے ایک آزاد اور خود مختار حکومت کی سالمیت کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے اور اسے تباہ کرنے کی ناپاک کوشش کی ہے۔بھارت نے بنگلہ دیش کی نام نہاد حکومت کو تسلیم کر کے پاکستان کو تباہ کرنے کی اپنی گھناؤنی پالیسی کا خود پردہ چاک کر دیا ہے۔اس نے ایسا کر کے اقوام متحدہ کے اصولوں اور بانڈ ونگ کا نفرنس کے مقاصد کی صریحاً خلاف ورزی کی ہے۔85 حضرت خلیفہ اسیح الثالث کا بھارت کو انتباہ پاک بھارت جنگ کے دوران جب یہ خدشہ پیدا ہوا کر اب حالات تنگ ہوتے جا رہے ہیں اور قادیان کے درویشوں کو بھی تنگ کیا جائے گا تو حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے ۱۰ دسمبر ۱۹۷۱ء کو اپنے خطبہ جمعہ میں بھارت کو تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا۔میں بھارت کو بھی ایک تنبیہ کرنا چاہتا ہوں دیکھو! آج کی فوج کے پاس چھوٹے سے چھوٹا ہتھیار رائفل ہے۔لیکن میرے اور میری جماعت کے پاس رانفل