تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 85 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 85

تاریخ احمدیت۔جلد 27 85 سال 1971ء حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی نصائح ۲۶ نومبر ۱۹۷۱ء کو حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے ملک کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے خطبہ جمعہ میں یہ نصیحت فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کی بیان فرمودہ ہدایت اور وعدہ کے مطابق ہم سب کا فرض ہے کہ ہم اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے اس امر پر یقین رکھیں کہ ہمارا خدا از بر دست قدرتوں والا خدا ہے۔وہ کبھی مومنوں کا ساتھ نہیں چھوڑتا۔بظاہر مادی سامان اور ذرائع کی خواہ کتنی ہی کمی ہولیکن اس کا یہ وعدہ ہے کہ بالآخر مومن ہی کامیاب و کامران ہوں گے۔بشرطیکہ ہم ایمان کے تقاضوں کو پورا کرنے والے بنیں۔امت مسلمہ پر جب بھی ایسے حالات آئے جب کہ دنیا کے سب حیلے جاتے رہے مادی سامان کی کمی نظر آئی اور دشمن نے جمع ہو کر گھیرا ڈالنے کی کوشش کی تو ایسے حالات میں دو چیزیں نمایاں طور پر نظر آئیں۔۱۔منافق کا نفاق ظاہر ہو گیا۔۲۔مومن کا ایمان ظاہر ہو گیا۔ہمارے ملک کو جنگ احزاب جیسے ہی حالات در پیش ہیں۔دشمن کو اپنے ساز وسامان اور مادی ذرائع پر گھمنڈ ہے لیکن ہمیں اپنے خدا پر بھروسہ ہے۔ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنی ذمہ داریوں کو نبھا ئیں۔اور دلیری اور بشاشت کے ساتھ موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر آگے بڑھتے چلے جائیں۔یاد رکھوموت سے مومن کبھی نہیں ڈرا کرتا کیونکہ یا تو وہ جنگ میں فتح حاصل کرتا ہے اور یا پھر شہید ہو کر اپنے خدا کی رضا کی جنتوں میں داخل ہو جاتا ہے۔خدا کرے ہم سب اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے والے ہوں۔آمین 82 مغربی پاکستان پر حملہ مشرقی پاکستان کے مختلف محاذوں پر ابھی جنگ جاری تھی کہ ہندوستان نے ۳ دسمبر ۱۹۷۱ء کو مغربی پاکستان پر بھی حملہ کر دیا۔اور سیالکوٹ، لاہور، قصور، راجستھان ، رحیم یارخان، فاضلکا اور حسینی والا سیکٹر زکونشانہ بنایا۔83 صدر مملکت کا خطاب دسمبر ۱۹۷۱ء کوصدر پاکستان جنرل آغا محمد یحیی خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے بیان کیا کہ ہمارے دشمن نے ایک بار پھر ہمیں للکارا ہے۔بھارت کی مسلح افواج نے کئی محاذوں پر بھر پور حملہ کر دیا ہے۔بھارت کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ پاکستان کو کمزور کر کے تباہ کر دیا جائے۔