تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 54
تاریخ احمدیت۔جلد 27 54 سال 1971ء کے اپنے اعصاب کھنچنے لگتے ہیں لیکن کند چھری کے ساتھ نہتے اور معصوم انسان کی گردن کاٹ دینا اور پھر بھی اعصاب کا متاثر نہ ہونا بلکہ اس بربریت کو بہادری سمجھنا تو سراسر جنون کی علامت ہے۔حضور نے فرمایا کہ اس جنون نے مشرقی پاکستان میں جوگل کھلائے ہیں وہ پاکستان کی تاریخ کا ایک ایسا المناک اور خونی باب ہے جو ہماری آئندہ نسلوں کے لئے تازیانہ عبرت کا کام دے گا۔ہم اسلام کے اٹوٹ رشتہ اخوت میں منسلک آپس میں سب بھائی بھائی ہیں یہ باہمی اخوت اور خیر سگالی کا جذبہ ہی تھا کہ یہاں خواجہ ناظم الدین صاحب، محمد علی صاحب بوگرہ اور سہروردی صاحب جیسی سر بر آوردہ بنگالی شخصیتوں نے حکومت کی مگر ان کے دور حکومت میں مغربی پاکستان کے کسی آدمی کے ذہن میں سرے سے یہ خیال پیدا ہی نہیں ہوا کہ مشرقی پاکستان ہم پر حکومت کر رہا ہے۔سیاست کے نام پرلوگوں کے جذبات سے کھیلنا اور ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف نفرت کے بیج بونا تو دراصل قومی شیرازہ کو پارہ پارہ کرنے کے مترادف ہے۔اس قسم کا اندازِ فکر جمہوریت اور پرامن بقائے با ہمی کے بنیادی اصولوں کے بھی منافی ہے۔سیاسی زندگی اور اس کی کامیابی کا اختصار جذبات کی حدت سے الگ رہ کر عقل و دانش کی ٹھنڈک میں سوچنے اور بردباری اور ضبط و حمل سے کام لینے پر ہے۔وہ لوگ جن سے قوم کی قسمت وابستہ ہو اور جنہیں قوم کی راہنمائی کرنی ہوتی ہے ان کا جذبات سے کھیلنے کا تو کوئی مطلب ہی نہیں ہے۔جس طرح جذبات کی گرمی میں شطرنج کی بازی نہیں جیتی جاسکتی اسی طرح سیاست کی بساط کو جذبات کے ساتھ جیتنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔پرانے بادشاہ شطرنج کے جواز کی ایک دلیل یہ بھی دیتے تھے کہ اس سے سوچنے کی عادت پڑتی ہے۔چنانچہ بعض دفعہ وہ اس کی ایک چال چلنے میں پورا دن سوچنے میں لگا دیتے تھے۔اگر شطرنج کی ایک چال چلنے میں دن میں کئی بار سوچا جا سکتا ہے تو جہاں قوم کی قسمت کا فیصلہ مقصود ہو وہاں ایک دفعہ نہیں بلکہ ہزاروں دفعہ سوچنا پڑتا ہے ویسے جذبات بھی اپنے مقام پر اور اپنے دائرہ میں رہیں تو مؤثر کردار ادا کرتے ہیں۔حضور نے مزید فرمایا کہ آجکل غیر ملکی پریس میں ہمارے خلاف جو من گھڑت خبریں شائع ہو رہی ہیں ان کے پیچھے یہود کا سازشی ذہن کام کر رہا ہے۔حضور نے تفصیل سے بتایا کہ یہودیوں نے ساری دنیا میں منظم سازشوں کا ایک جال پھیلا رکھا ہے۔ان کی خفیہ سرگرمیوں کی دستبرد سے کوئی ملک بھی محفوظ نہیں ہے۔دنیا کے اکثر بڑے بڑے ملکوں کی اقتصادیات پر بھی ان کا موثر کنٹرول ہے۔وہ جہاں اور جب چاہتے ہیں افراط یا تخفیف زر کا