تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 55
تاریخ احمدیت۔جلد 27 55 سال 1971ء بحران کھڑا کر کے اس ملک کی اقتصادیات کو مفلوج کر دیتے ہیں۔ان کے ہر شیطانی منصوبے کا توڑ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں پہلے سے بتا دیا ہوا ہے۔حضور نے اپنے یورپ اور پھر گذشتہ سال افریقہ کے دورہ میں اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کے کئی نشان بیان کرتے ہوئے بتایا کہ پریس کانفرنسوں میں اور کئی دوسرے مواقع پر بڑے بڑے عیسائی پادریوں، منجھے ہوئے صحافیوں اور دانشوروں نے الٹے سیدھے سوالات کر کے بات کو الجھانے کی بہت کوشش کی مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ہر موقعہ پر ایسا برجستہ جواب سمجھا دیا کہ وہ حیران رہ گئے۔سفر کے مختلف مرحلوں پر غیر معمولی طور پر تسلی بخش انتظام ہوتے چلے گئے۔حتی کہ خود منتظمین حیران رہ گئے۔سیرالیون میں ایک تقریب پر وہاں کے سابق نائب وزیر اعظم اور نہایت جو شیلے مقرر کے سپاسنامے کے جواب میں انگریزی میں گھنٹے بھر کی فی البدیہہ تقریر کا یہ اثر تھا کہ غیر احمدی مسلم زعماء نے اظہار مسرت کرتے ہوئے کہا کہ وہ خدا کے بڑے شکر گذار ہیں کہ اس نے یہ تقریر سننے کے لئے انہیں زندہ رکھا۔حضور نے فرمایا کہ یہ ساری باتیں اللہ تعالیٰ کے پیار کی مظہر ہیں۔ہمارے دل جذبات تشکر سے لبریز اور اللہ تعالیٰ کی حمد سے معمور رہنے چاہئیں کیونکہ ہم تو بالکل لاھی محض ہیں۔ہماری کوششیں بڑی حقیر ہیں بایں ہمہ اللہ تعالیٰ کا اپنے پیار سے ہمیں نواز نا اس بات کی دلیل اور ہمارے لئے لمحہ فکر یہ ہے کہ وہ دنیا میں کچھ کرنا چاہتا ہے اور کرنا یہ چاہتا ہے کہ اسلام ساری دنیا پر غالب ہو۔دنیا اپنے خالق و مالک خدا کو ماننے لگے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں آکر امن و آشتی سے سرفراز ہو۔58 ڈاکٹر سعید احمد صاحب کی حسن کارکردگی کا ذکر ۲۴ اگست ۱۹۷۱ء کو سید نا حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے ایک اجتماعی ملاقات کے دوران ڈاکٹر سعید احمد صاحب مشنری ڈاکٹر گیمبیا کی حسن کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔ڈاکٹر صاحب موصوف نے ہم سے نہ رہائشی سہولتوں کا مطالبہ کیا اور نہ طبی آلات کا۔انہوں نے انتہائی نامساعد حالات میں تھوڑے سے سامان کے ساتھ کام شروع کیا۔اللہ تعالیٰ نے ان کے دلی خلوص اور انتھک محنت کو شرف قبولیت بخشا۔تھوڑے ہی عرصہ میں ان کا کلینک پھولنے پھلنے اور معقول آمدنی کا ذریعہ بھی بن