تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 297
تاریخ احمدیت۔جلد 27 297 سال 1971ء عمل کے ذریعہ خدام نے صفائی کا خاص ہفتہ منایا۔عید کی مناسبت سے تبلیغی عید کارڈ بھی چھپوائے گئے اور تمام اراکین حکومت اور مذہبی شخصیات اور زیر تبلیغ احباب کو بھجوائے گئے۔متعدد بڑی شخصیتوں نے اس کے جواب میں تہنیت کے پیغامات بھیجے۔جن میں امریکی سفیر مسٹر W۔D۔Brewer، گورنر بینک آف ماریشس مسٹر بیما دھر اور بشپ آف پورٹ لوئیس شامل تھے۔عید کے موقع پر حضرت خلیفتہ المسیح الثالث نے عید مبارک کا دعائیہ برقی پیغام بھجوایا جسے جماعتوں میں خطبات عید سے قبل سنایا گیا۔117 قریشی محمد اسلم صاحب انچارج مشن اور ان کے نائب مولوی صدیق احمد صاحب منور ، جلسوں کے انعقاد لٹریچر کی تقسیم ، دینی کتب کی نمائش ، سرکاری تقاریب میں شرکت اور دیگر ہر ممکن ذرائع سے ملک کے طول و عرض میں حق و صداقت پھیلانے میں سرگرم عمل رہے۔ماریشس کے مخلص احمدیوں نے مسجد تریولے کی تعمیر میں پر جوش حصہ لیا چنانچہ ۲ مئی ۱۹۷۱ء کو وقار عمل کے ذریعہ سے اس کا لیٹل ڈالا گیا اور ۲۳ مئی کو وقار عمل کے ذریعہ سے قالب کھولا گیا۔یہ منصوبہ جماعت کے حوصلہ اور جذ بہ قربانی و اخلاص میں اضافہ کا موجب بنا۔ماہ مئی کی مختلف تاریخوں میں روز ہل (۱۰) مئی) فینیکس Vacoas-Phoenix (۱۴مئی)، پائی پورٹ لوئس Pailles Port Louis (۱۵ مئی) ، سینٹ پیری Saint-Pierre (۱۷مئی)، تریولے Triolet (۲۱ مئی) اور مونتا ئیں بلانش Montagne Blanche (۲۲ مئی) میں سیرت النبی صلی ا ستم کے جلسے منعقد ہوئے۔روزہل کے جلسہ سے علاوہ مرکزی مبشرین کے ایک معزز اہل علم ہند و دوست جناب جے نرائن رائے نے بھی تقریر کی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور خراج عقیدت پیش کیا۔صدارتی تقریر احمد ید اللہ صاحب بھنونے کی۔عین دوران جلسہ، ربوہ سے جناب رشید حسین صاحب بی ایس سی ایم ایڈ (پرنسپل احمدیہ سیکنڈری سکول ماریشس ) مشن ہاؤس میں تشریف لائے۔اس موقعہ پر انہوں نے سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثالث کا یہ پیغام مخلصین جماعت تک پہنچایا کہ ”جب میں ماریشس آؤں تو وہاں احمدیوں کی کثرت ہونی چاہیے اور اس کے لئے سب کو کام کام اور کام کرنا چاہیے“