تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 298
تاریخ احمدیت۔جلد 27 298 سال 1971ء اس پیغام سے احباب میں نہایت درجہ خوشی اور جوش کی لہر دوڑ گئی اور جلسے کا ماحول پہلے سے زیادہ خوشگوار ہو گیا۔جناب رشید حسین صاحب اپنے ساتھ حضور کے دورہ مغربی افریقہ سے متعلق پرکشش، دیدہ زیب اور نفیس کتاب افریقہ سپیکس (Africa Speaks) کی کاپیاں بھی لائے تھے جو قریشی محمد اسلم صاحب نے وزیر اعظم ماریشس، وزیر تعلیم ماریشس مسٹر جمعدار، ہز ایکسی لینسی گورنر جنرل ماریشس سر آرتھر لیونا روڈ ولیمز، وزیر صحت مسٹر جگت سنگھ، وزیر صحت گیمبیا الحاج گو با جو ہمبا کو تحفہ پیش کیں۔سبھی نے اسے بہت سراہا۔انہوں نے مسٹر ز وکل ایڈیٹر اخبار ایڈوانس (Advance) کو بھی اس کی پیشکش کی اسی طرح ماریشس کی نیشنل لائبریری اور ماریشس انسٹی ٹیوٹ کے ڈائر یکٹر کو لائبریری کے لئے افریقہ سپیکس کے علاوہ تفسیر القرآن انگریزی، اسلام کا اقتصادی نظام اور نظام نو (انگریزی) پیش کیں۔اس تقریب کا فوٹو اخبار میں بھی شائع ہوا۔۲۶ / اکتوبر ۱۹۷۱ء کو قریشی صاحب نے روسی سفیر برائے ماریشس کو افریقہ سپیکس، پیش کی جو انہوں نے بڑی خوشی سے قبول کی اور ارادہ ظاہر کیا کہ وہ اسے روسی مسلمانوں کے پاس بھجوائیں گے تاوہ جماعت احمدیہ کی خدمات سے آگاہ ہوسکیں۔اس تقریب کا فوٹو اخبار ایڈوانس میں نمایاں طور پر شائع ہوا۔۷ / ۸ / اگست ۱۹۷۱ ء کو جماعت احمدیہ ماریشس کا کامیاب جلسہ سالا نہ ہوا جس میں ملک کے اعلیٰ سول اور پولیس حکام سمیت ایک ہزار سے زائد ا حباب نے شمولیت کی۔قریشی محمد اسلم صاحب نے جلسہ کا افتتاح کرتے ہوئے حضرت خلیفہ اسیح الثالث کا حسب ذیل ایمان افروز برقی پیغام پڑھ کر سنایا :۔قرآن مجید تمام علوم کا مخزن ہے۔اسے مضبوطی سے پکڑے رکھو اور اپنی زندگیوں میں اسے اپنا رہنما بناؤ۔اللہ تعالیٰ آپ تمام مردوں، عورتوں اور بچوں پر اپنی برکتیں نازل فرمائے۔“ جلسہ میں قریشی صاحب کے علاوہ قاسم نور علی صاحب آف مونتا ئیں بلانش، ناصر احمد صاحب سوکیه، رشید حسین صاحب بی ایس سی ایم ایڈ ، ید اللہ بھنو صاحب، مولوی صدیق احمد صاحب منور، مولوی شمشیر سوکیہ صاحب سابق مبلغ کینیا اور محمد حنیف جواہر پریذیڈنٹ جماعت احمد یہ ماریشس کی پر مغز اور پر جوش تقاریر ہوئیں۔جلسہ کے دوران آٹھ افرا د سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے۔جلسہ کے