تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 276 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 276

تاریخ احمدیت۔جلد 27 276 سال 1971ء احمد صاحب بشیر اور دیگر مجاہدین احمدیت جو ایک قافلہ کی صورت میں ملک کے تبلیغی دورہ پر تھے اس کا نفرنس کی رونق کو دوبالا کرنے کا موجب بنے۔کل حاضری قریباً ڈیڑھ ہزار تھی۔مولوی بشارت احمد صاحب بشیر نے اپنے افتتاحی خطاب میں حاضرین کو زیادہ سے زیادہ خدمت دین بجالانے اور فریضہ تبلیغ ادا کرنے کی طرف توجہ دلائی اور نصرت تبشیر سکیم سے آگاہ کیا۔کانفرنس میں مولوی عبدالوہاب بن آدم صاحب اور مولوی نصیر احمد خان صاحب نے بھی تقاریر کیں۔کانفرنس کے آخر میں مالی جہاد کی تحریک کی گئی جس پر تقریبا چار ہزارسیڈیز رقم جمع ہوئی۔91 غانا کے شمالی اور بالائی ریجنوں میں مخالفین اسلام کی سرگرمیاں تیز سے تیز تر ہوتی جارہی تھیں اور چرچ کی طرف سے غریب لوگوں میں خوراک اور زراعت اور دیگر عوامی بہبود میں امداد کے پردے میں مسلمانوں کو اسلام سے برگشتہ کیا جا رہا تھا۔غانا پریس بھی اس سازش کو تقویت دے رہا تھا چنانچہ ایک اخبار نے یہ مضمون شائع کیا کہ ٹمالے(Tamale) جسے پہلے مسلمانوں کا شہر سمجھا جاتا تھا اب یہ عیسائی شہر ہے۔مولوی بشارت احمد صاحب بشیر نے سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی خدمت میں اس نازک صورتحال کی اطلاع دی اور ان علاقوں میں اسلام کی اشاعت کے لئے ایک خاص پروگرام پیش کر کے خصوصی دعا کی تحریک کی۔حضور نے دعا کی اور اس پروگرام کی منظوری دیتے ہوئے اس سکیم کا نام نصرت تبشیر سکیم تجویز فرمایا ( جس کا ذکر اوپر آچکا ہے)۔اس انقلابی سکیم کے مطابق مولوی بشارت احمد صاحب بشیر نے شمالی ریجن کے ہر گاؤں اور ہر قصبہ میں حق کی آواز پہنچانے کے لئے مسلسل ایک ماہ تک ایک وفد کی صورت میں بھر پور دورہ کیا۔وفد میں مقامی اور مرکزی چالیس مبلغین شامل تھے۔جملہ مبلغین یکم مارچ کو کماسی مشن میں اپنے ضروری سامان کے ساتھ پہنچ گئے جنہیں دیکھ کر کماسی کی جماعت میں حد درجہ جوش اور ولولہ پیدا ہو گیا۔احمدیوں نے مجاہدین کے لئے چندہ دیا اور جو احباب جماعت شامل نہ ہو سکتے تھے انہوں نے بغرض ثواب مالی قربانی کا شرف حاصل کیا۔تمام مبلغین کو مختلف حلقوں میں تقسیم کر کے ان کے امراء مقرر کر دیئے گئے اور پورے ایک ماہ کے لئے خوراک کا مکمل سامان اور لٹریچر ان کے حوالے کر دیا گیا اور ان کو طریق تبلیغ اور پروگرام بتا دیا گیا۔مبلغین کو وا (Wa) تک پہنچانے کے لئے احمد یہ سیکنڈری سکول کماسی کے ہیڈ ماسٹر مسٹر عبد اللہ ناصر صاحب نے سکول کی ایک بس پیش کی۔اس کے علاوہ ایک جیپ کا بھی انتظام کیا گیا۔مولوی بشارت احمد صاحب بشیر اور بعض مبلغین کے لئے ایک کار مخصوص