تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 277
277 سال 1971ء تاریخ احمدیت۔جلد 27 تھی۔مجاہدین احمدیت کا یہ قافلہ ایک ماہ کے تبلیغی جہاد کے لئے ۳ مارچ کو نماز فجر کی ادائیگی اور اجتماعی دعا کے بعد نعروں کی گونج میں کماسی مشن ہاؤس سے روانہ ہوا اور سب سے پہلے ریجن کے پہلے بڑے شہر بولے (Bole) کے امام مسجد اور دیگر معزز مسلمانوں سے تبلیغی کیمپ لگانے کے متعلق گفتگو کی۔سبھی نے نہایت خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ہر طرح تعاون کا وعدہ کیا۔ایک معزز مسلمان نے اپنا ایک ہونہار چھوٹا بچہ احمدیہ مشن کے حوالے کرنے کا وعدہ کیا تا کہ صحیح اسلامی تعلیم و تربیت دلوائی جائے اور یہ بچہ اس علاقہ میں اشاعت اسلام کا موجب بن سکے۔ازاں بعد قافلہ دوسرے اہم مقام ساولہ (Sawla) پہنچا۔یہاں بھی معزز مسلمانوں اور ان کے امام نے تبلیغی پروگرام کو بہت سراہا اور ہر ممکن مدد اور تعاون کا وعدہ کیا۔بعد ازاں اس قافلہ نے وا (Wa) کی احمد یہ سالانہ کا نفرنس میں شرکت کی۔مولا نا بشارت احمد صاحب بشیر نے وا (Wa) کے عہدیداران جماعت کے مشورہ سے تمام مجاہدین کو سات دستوں میں تقسیم کیا اور شمالی ریجن میں سات اہم مقامات کو تبلیغی کیمپ کے لئے منتخب کیا۔یہ سات مقامات حسب ذیل تھے۔ا۔وا (Wa )۔۲۔گورپسی (Gorpisi)۔۳ فیلیمو (Felimu)۔۴۔بولے(Bole)۔۵- سالا گا (Salaga)۔۶۔ڈامونگو (Damongo)۔۷۔والے والے(Walewale)۔وا (Wa) کیمپ کے نگران خود مولوی بشارت احمد صاحب بشیر تھے اور نائب نگران مولوی نصیر احمد خاں صاحب مبلغ کماسی۔دوسرے کیمپوں میں مولوی ناصر احمد صاحب، مولوی عبدالوہاب بن آدم صاحب اور بعض دیگر مجاہدین مقرر کئے گئے۔سبھی مبلغین کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنے متعینہ مقامات اور اس کے ماحول میں جم کر پورا عرصہ کام کریں تا کہ مفید نتائج برآمد ہو سکیں اور نئی جماعتوں کا قیام عمل میں آسکے۔مولوی عبد الشکور صاحب اکر ا میں متعین کئے گئے تا مشن کے دیگر ضروری امور کی نگرانی کر سمیں۔جس شام کو یہ تبلیغی قافلہ کماسی سے وا پہنچا اس سے اگلے روز صبح کے وقت بذریعہ تاریہ افسوسناک خبر ملی کہ مولوی بشارت احمد صاحب کی والدہ محترمہ پاکستان میں انتقال کر گئی ہیں انا للہ وانا الیہ راجعون۔مولوی صاحب فرماتے ہیں اگر خدا تعالیٰ کا خاص فضل شامل حال نہ ہوتا تو شاید میرے لئے یہ صدمہ ایسے وقت میں برداشت کرنا مشکل ہو جاتا مگر یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک خاص تصرف تھا کہ دعاؤں کی برکت سے یہ صدمہ سہنا میرے لئے ممکن ہو گیا“۔