تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 267
تاریخ احمدیت۔جلد 27 267 سال 1971ء کے ہر پہلو اور اس کی حکمت سے دوسروں کو آگاہ کرنے میں اتنی جد و جہد اور دوڑ دھوپ سے کام لیتے ہیں جتنا کہ کسی انسان کے لئے ممکن ہو سکتا ہے۔ان کی پوری کوشش یہ ہوتی ہے کہ اسلام کا پیغام اپنی پوری جامعیت کے ساتھ دوسروں تک پہنچ جائے تاکہ وہ اس کی پوری معرفت حاصل کر کے اس سے بہرطور فیضیاب ہوسکیں۔محمد سنوسی مصطفی نائب وزیر اعظم وممبر آف پارلیمنٹ نے اپنی تقریر میں کہا’احمدیت سے قبل یہاں اسلام کا نام بھی مستور تھا۔ذمہ دار مسلمان اپنے آپ کو مسلمان کہلانے میں بھی حجاب محسوس کرتے ہیں اور چھپ کر رہتے تھے۔دوسری طرف عیسائیت ببانگ دہل اپنا پر چار کرتی تھی اور مسلمانوں میں سے کوئی بھی اس کے مقابل پر نہ آ سکتا تھا۔احمدی مبلغین پاکستان سے صرف خدمت اسلام کا عظیم مقصد لے کر آئے جس کی وجہ سے آج ہماری نظر میں ان کی بہت عزت ہے۔جماعت احمدیہ نے نہ صرف اسلام کا احیاء کیا ہے بلکہ تبلیغی ، تربیتی اور اخلاقی خدمات کے لئے مبلغین کا انتظام کیا۔آج جو شخص احمد یہ جماعت کے خلاف بات کرتا ہے وہ اسلام سے دشمنی کرتا ہے۔امام جماعت احمدیہ حضرت خلیفتہ اسیح کا چہرہ نور کی طرح چمکتا تھا وہ حقیقت میں ایک نور تھا جو افریقہ کی سیاہ فام اقوام کو منور کرنے کے لئے آیا تھا۔حضور کی شخصیت معمولی نہیں ہے آپ کا وجود نہایت قیمتی وجود ہے جس کی ہمیں قدر کرنی چاہیے کیونکہ خدا تعالیٰ آپ کی دعاؤں کو سنتا ہے اور جو آپ نے یہاں فرمایا تھا اس کو پورا ہوتے آج میں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں“۔آنریبل وی سی بونگے اور مسلم کانگریس سیرالیون کے جنرل سیکرٹری جناب اے کے زبیر نے بھی اجلاس سے خطاب کیا۔انہوں نے جماعت احمدیہ کی تبلیغی مساعی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا یہ جماعت اسلام کو دنیا بھر میں غالب کرنے کے سلسلہ میں جو گرانقدر مساعی بروئے کار لا رہی ہے اس کی وجہ سے دنیا بھر کے مسلمانوں کو بالعموم اور مسلمانانِ افریقہ کو بالخصوص اس جماعت کا شکر گذار ہونا چاہیے۔یہ جماعت سب کی طرف سے شکریہ کی مستحق ہے۔انہوں نے گذشتہ سال سیرالیون میں سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی تشریف آوری کو مسلمانانِ سیرالیون کے لئے غیر معمولی طور پر رحمت اور برکت کا باعث قرار دیا۔جناب اے کے زبیر نے فرمایا کہ حضرت امام جماعت احمد یہ وہ عظیم ہستی ہیں جن کا اللہ تعالیٰ سے براہ راست تعلق ہے۔جلسہ کے انعقاد اور اس کی کارروائی پر مشتمل خبریں ریڈیو سیرالیون سے نشر ہوئیں۔نیز اخبارات