تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 250
تاریخ احمدیت۔جلد 27 250 سال 1971ء واپسی پر پریسٹن (Preston)، ہڈرزفیلڈ(Huddersfield)، و یک فیلڈ (Wakefield) اور شیفیلڈ (Sheffield) میں بھی احباب جماعت سے ملاقات کی گئی ، ہڈرزفیلڈ میں تو اچھے خاصے جلسے کی صورت پیدا ہو گئی۔65 9 جولائی کو چوہدری شریف احمد صاحب باجوہ اور مولانا عطاء المجیب صاحب راشد نے کانوسٹیٹ (مغربی افریقہ) کے گورنر ہز ایکسی لینسی الحاج آڈوبا کو (H, E۔Alhaj Audu Bako) سے ملاقات کی۔آپ ان دنوں چند روزہ سرکاری دورہ پر لنڈن تشریف لائے ہوئے تھے۔گورنر موصوف بڑے تپاک سے ملے اور جماعت کی تبلیغی مساعی کا بڑے اچھے پیرا یہ میں ذکر کیا خاص طور پر نصرت جہاں سکیم کے تحت تعلیمی اور طبی میدان میں کی جانے والی خدمات کو بہت سراہا۔اس موقعہ پر چوہدری شریف احمد صاحب نے قرآن مجید کے ترجمہ انگریزی کا آسمانی تحفہ پیش کیا جو انہوں نے نہایت خوشی سے قبول کیا۔66 اس سال جماعت احمد یہ برطانیہ کا آٹھواں جلسہ سالانہ ۲۸، ۲۹/ اگست ۱۹۷۱ء کو مسجد فضل لندن میں منعقد ہوا جس میں دو ہزار فرزندانِ احمدیت نے شمولیت فرمائی۔اس جلسہ کے چند نمایاں پہلو یہ تھے کہ اس کے اجلاسوں کی کارروائی زیادہ تر انگریزی میں ہوئی صرف چند نقار پر اردو میں تھیں۔دوسرے : اس سال پہلی بار مستورات کے لئے دو خصوصی اجلاس منعقد ہوئے۔تیسرے: جلسہ کے دوران ایک علمی نمائش کا اہتمام کیا گیا جس میں کتب تصاویر اور اخبارات کے تراشے بڑی عمدگی سے سجائے گئے تھے۔چوتھے : وقت کی پابندی کا خاص اہتمام کیا گیا۔پانچویں: کویت، ٹرنیڈاڈ ، افریقہ، جرمنی اور بعض دیگر ممالک سے آئے ہوئے احمدی احباب نے بھی شرکت کی۔علاوہ از میں متعدد غیر از جماعت احباب اور زیر تبلیغ عیسائی معززین نے بھی جلسہ کی کارروائی سنی۔پیغام امام همام بر موقع جلسه سالانه اس جلسہ کو عظیم امتیاز اور برکت یہ بھی حاصل ہوئی کہ سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے از راہ شفقت جلسہ کے موقع پر حسب ذیل برقی پیغام ارسال فرمایا:۔آج اسلام افریقہ میں ایک روحانی معرکہ سر کر رہا ہے۔یہ بات ہم سے قربانیوں کا مطالبہ کرتی ہے۔لیپ فارورڈ پروگرام کے ذریعہ عظیم الشان فتوحات