تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 251 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 251

تاریخ احمدیت۔جلد 27 251 سال 1971ء حاصل ہوئی ہیں۔پس اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور برکتیں حاصل کرنے کے لئے نصرت جہاں فنڈ کے لئے اپنے وعدہ جات جلد پورا کریں اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو۔جلسے کا افتتاح حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے فرمایا جس کے بعد مستورات کے دو اجلاس منعقد ہوئے۔پہلے اجلاس میں ڈچ احمدی خاتون مسر ڈاکٹر عبدالحمید صاحبہ، سلمہ نذیر صاحبہ اور منگھ صادقہ بنگوی صاحبہ اور دوسرے اجلاس میں سلمہ مبارکہ خان صاحبه، مسز خدیجہ نذیر صاحبه برهم آمنہ کریم صاحبہ لندن، ذکیہ جسوال صاحبہ اور ناصرہ ندیم صاحبہ قائمقام صدر لجنہ اماء اللہ لندن کی تقاریر ہوئیں۔بعد ازاں تیسرے اجلاس سے حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے تربیت جماعت کے موضوع پر ایک نہایت مؤثر خطاب فرمایا۔آپ نے فرمایا اپنی تبلیغ کو مؤثر بنانے کے لئے ضروری ہے کہ ہم سب بہترین نمونہ پیش کرنے والے ہوں۔چوتھے اجلاس میں صدر پاکستان کے سائنسی مشیر ڈاکٹر عبدالسلام صاحب نے نہایت پر مغز اور معلومات افروز تقریر فرمائی جس میں گذشتہ زمانے کے مسلمان علماء اور محققین کی شاندار خدمات کا ذکر کرنے کے بعد اس بات پر زور دیا کہ موجودہ زمانے میں جماعت احمدیہ کو علمی اور تحقیقی میدان میں نمایاں امتیاز حاصل کرنا چاہیے۔اسی اجلاس میں مولانا عطاء المجیب صاحب را شد اور بشیر احمد صاحب آرچرڈ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔پانچویں اجلاس میں دیگر مقررین کے علاوہ ڈاکٹر عبدالحمید خان صاحب اور مولا نا مبارک احمد صاحب ساقی سابق مجاہد لائبیریا نے بالترتیب صحت کا جدید تصور اور اسلام اور افریقہ میں احمدیت کا مستقبل کے موضوع پر تقریر کی۔آخر میں صدر اجلاس حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے اپنے مختصر خطاب میں یہ خوشخبری سنائی کہ حال ہی میں دو انگریز میاں بیوی اور ایک ترک نو جوان سلسلہ احمدیہ میں شامل ہوئے ہیں۔یہ تینوں برمنگھم میں رہائش رکھتے تھے ان کا تعارف بھی کروایا گیا اور احباب جماعت نے ان کو مبارک باد پیش کی۔چھٹے اور ساتویں اجلاس میں جن مقررین نے تقاریر فرمائیں ان میں خاص طور پر ناصر احمد صاحب سکرونر، عبد العزیز صاحب دین، سید ناصر احمد صاحب دہلوی، شیخ نور احمد صاحب ایڈووکیٹ، ڈاکٹر نذیر احمد صاحب ( برمنگھم ) اور ڈاکٹر سعید احمد خاں صاحب ویکفیلڈ خاص طور پر قابل ذکر تھے۔آخری اجلاس میں حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے اسوہ حسنہ کے موضوع پر ایک بصیرت افروز لیکچر دیا جس میں خاص طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنے صحابہ سے محبت اور