تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 249 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 249

تاریخ احمدیت۔جلد 27 249 سال 1971ء جلنظیم سے چالیس احباب اپنے پریذیڈنٹ فضل کریم صاحب لون کی سرکردگی میں تشریف لائے۔علاوہ ازیں آکسفورڈ، ہنسلو، ہائی ویکمب ، کرائیڈن، برمنگھم، ساؤتھ آل، ایلنگ اور دوسرے مقامات سے بھی مخلصین احمدیت بھاری تعداد میں شامل ہوئے۔نماز عید چوہدری شریف احمد صاحب باجوہ امام مسجد فضل لندن نے پڑھائی اور خطبہ عید میں عیدالاضحیہ کے پس منظر پر تفصیلی روشنی ڈالی۔بعد ازاں احباب جماعت کو باہمی محبت و خلوص اور حسن سلوک کی تلقین فرمائی۔آپ عید سے دو روز قبل لندن پہنچے تھے اور احباب انگلستان سے آپ کے خطاب عام کا یہ پہلا موقع تھا اس لئے آپ نے قدرے تفصیل سے اپنا تعارف بھی کرایا نیز اس امر پر زور دیا کہ ہماری کامیابی کا دارو مدار باہمی اخوت اور مخلصانہ تعلقات پر ہے۔آپ نے احباب جماعت کو اپنی دینی مساعی تیز تر کرنے اور نیک نمونہ دکھانے کی بھی تحریک فرمائی۔گلاسگو میں نماز عید مبلغ احمدیت بشیر احمد صاحب آرچرڈ نے پڑھائی اور خطبہ عید دیا اس جگہ بھی حاضری اللہ تعالیٰ کے فضل سے خوشکن تھی۔64 چوہدری شریف احمد صاحب باجوہ نے مشن کا چارج سنبھالنے کے بعد اس سال تبلیغی کاموں میں وسعت اور انتظامی امور میں استحکام کے لئے پہلے لنگھم ، برمنگھم اور لیسٹر کی جماعتوں کا دورہ کیا۔ازاں بعد نصرت جہاں ریزرو فنڈ کی جلد از جلد ادائیگی کی تحریک کرنے کے لیے لنگھم ہنسلو اور ساؤتھ آل تشریف لے گئے۔ماہ ستمبر میں آپ نے اپنے نائب عطاء المجیب صاحب را شد ایم اے کے ہمراہ سکاٹ لینڈ کی جماعتوں کا دورہ کیا جس کے دوران گلاسگو میں جماعتی جلسہ ہوا جس میں آپ کے علاوہ عطاء المجیب صاحب را شد، بشیر احمد صاحب آرچرڈ اور منور احمد صاحب (ابن حضرت ماسٹر محمد علی صاحب بی اے بی ٹی) نے بھی خطاب کیا۔سب تقاریر نصرت جہاں ریز روفنڈ کے موضوع پر تھیں۔اس جلسہ کے بعد آپ ایڈنبرا پہنچے جہاں ایڈنبرا یونیورسٹی کے شعبہ عربی ( Islamic Studies) کے صدر پروفیسر منٹگمری واٹ سے ملاقات کا وقت مقررتھا۔پروفیسر موصوف سے خاصی دیر تک تبادلہ خیالات ہو تا رہا۔پروفیسر موصوف نے جماعت احمدیہ کی تبلیغی خدمات کا عمدہ رنگ میں ذکر کیا خصوصاً افریقہ میں جماعتی مساعی کو سراہا اور احمدیت کو اسلام کے اندر ایک اصلاحی تحریک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس تحریک کے صحیح نتائج کا علم تو مستقبل میں ہو سکے گا۔ملاقات میں برطانیہ کے تینوں مجاہدین کے علاوہ محمد اسلم صاحب جاوید سیکرٹری تحریک جدید بھی تھے۔دورۂ سکاٹ لینڈ سے