تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 189 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 189

تاریخ احمدیت۔جلد 27 189 سال 1971ء گئے۔تھوڑی دیر بعد مسواک منگوا کر دانت صاف کئے۔عصر کی نماز کیلئے وضو کر رہے تھے کلمہ طیبہ پڑھ رہے تھے کہ دل پر حملہ ہوا اور اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو گئے۔آپ موصی تھے۔بہشتی مقبرہ ربوہ میں دفن ہوئے۔وفات کے وقت امانت صدر انجمن احمد یہ میں ان کی معمولی سی رقم سات سو روپیہ جمع تھی۔وہ میں نے مساجد بیرون میں ادا کرا دی اور افسر امانت کو ان کے مطالبہ پر لکھ دیا کہ اگر ورثاء میں سے کوئی اپنا حصہ طلب کرے تو میں ادا کروں گا۔میری والدہ محترمہ بھی ۱/۸ حصہ کی موصیبہ تھیں۔۱۰۴ سال کی عمر میں فوت ہو ئیں وہ بھی بہشتی مقبرہ ربوہ میں دفن ہیں۔اللہ تعالیٰ ہر دو کے درجات بلند فرمائے اور ان کی اولا دکو ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین ہم تین بھائی ہیں۔ہمارے گاؤں اور گاؤں کے قرب وجوار میں کئی ہائی سکول تھے اور اب بھی ہیں لیکن ہمیں آپ نے قادیان دارالامان میں تعلیم دلوائی اور وجہ یہ بتائی کہ یہاں تم زمیندارہ کام کی طرف راغب ہو سکتے ہو اور اس صورت میں تم تعلیم مکمل نہ کرسکو گے۔۱۹۵۷ء میں حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب ( خلیفہ اسیح الثالث ) صدر مجلس انصار الله مرکز یہ ضلع سیالکوٹ کے دورہ پر تشریف لے گئے۔ہماری جماعت چندر کے منگولے میں بھی تشریف لائے۔میں ان ایام میں رخصت پر اپنے گاؤں گیا ہوا تھا اور میں نے ہی احباب جماعت کا تعارف کرایا۔دو پہر کے کھانے کا انتظام ہمارے گھر میں تھا۔عین اس وقت جب کھانے کا وقت قریب تھا تو آپ نے ضمناً فرمایا کہ مجھے مکئی کی روٹی اور سرسوں کا ساگ بہت پسند ہیں۔ہم نے نصف گھنٹہ کے اندر آپ کی فرمائش پوری کر دی۔کھانے کے بعد آپ نے مرکزی دفتر اور ہال انصار اللہ کے لئے چندہ کی تحریک کی۔ہماری جماعت کے افراد نے حسب استطاعت چندہ دیا لیکن جو دوست قریبی جماعتوں سے آئے تھے انہوں نے عذر کیا کہ ہمیں معلوم نہ تھا کہ چندہ کی تحریک ہو گی۔اس پر والد صاحب نے اعلان کیا کہ جو دوست اس ثواب میں حصہ لینا چاہتے ہیں وہ مجھے بتائیں میں چندہ ادا کر دیتا ہوں۔ڈیڑھ ہزار روپیدان دوستوں کے حساب میں والد صاحب نے ادا کر دیا جو بعد میں ان دوستوں نے والد صاحب کو ادا کر دیا۔سیالکوٹ سے ہمارے گاؤں آتے ہوئے راستہ میں ایک نالہ ڈیک ہے۔جب حضرت مرزا ناصر احمد صاحب اس نالہ پر پہنچے تو کچھ مرغابیاں اڑتے ہوئے دکھائی دیں۔آپ نے فلائنگ شاٹ کر کے ایک مرغابی گرالی جب ہماری جماعت میں پہنچے تو مجھے فرمایا کہ میں ایک مرغابی لایا ہوں۔حضرت چوہدری غلام محمد صاحب امیر حلقہ کو دوں یا آپ کے والد صاحب