تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 188
تاریخ احمدیت۔جلد 27 188 سال 1971ء اندر جا کر بتا دوں گا۔اس نے بتایا کہ ایک پنڈ ( اڑھائی من ) گندم کا سوال ہے ہمارے گھر آٹا بھی نہیں۔میں نے اندر جا کر والد صاحب کو بتایا تو آپ نے حکم دیا کہ اسے اندر نہیں آنے دینا خود باہر دو تین دفعہ اٹھا کر اسے گندم دے دو۔میں نے ڈرتے ڈرتے والد صاحب سے کہا یہ وہی چور ہے جسے آپ نے حویلی سے نکال دیا تھا۔والد صاحب نے فرمایا یہ دو مضمون ہیں۔اگر میں اسے اپنے پاس بیٹھنے دیتا تو گاؤں کے لوگ دیکھ کر کہتے کہ میں چور کی مدد کرتا ہوں۔اور اب اگر گندم نہ دیتا ، تو بھوکا خاندان جو ہمارے محلہ میں رہتا ہے تو اللہ جو رب العلمین ہے کی ناراضگی کا خوف تھا۔اگر ہم غریبوں کا خیال نہ رکھیں تو اللہ تعالیٰ ہماری خوشحالی ختم بھی کر سکتا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے غرباء کی بے لوث مدد کے صلے میں ہمیں دینی اور دنیوی نعمتوں سے بہت کچھ عطا فرمایا ہے۔احمدیت کی نعمت دنیا کی بڑی سے بڑی جائیداد سے افضل و اعلیٰ ہے۔دنیاوی لحاظ سے ہم گاؤں کے امیر ترین زمیندار مشہور ہیں۔ایک اور واقعہ یاد آیا۔مجھے لاہور میں ایک دوست کی ملاقات کے لئے بدوملہی ریلوے سٹیشن تک سفر در پیش تھا۔میں گاؤں کے ایک شخص محبوب علی کو اسٹیشن سے گھوڑا واپس لانے کے لئے ساتھ لے گیا۔گاؤں سے نصف میل کے قریب دس ڈاکو گھوڑوں پر سوار سامنے آتے دیکھے جن کے چہروں پرس پر سیاہ رنگ کے پردے اور ہاتھوں میں بندوقیں تھیں۔محبوب علی نے مجھے مشورہ دیا کہ آپ سڑک سے دور گھوڑے کو لے جائیں۔ممکن ہے کہ یہ آپ سے گھوڑا چھین لیں۔میں نے اسے جواب دیا کہ اس علاقہ میں میرے باپ دادا کی بہت عزت ہے۔اگر میں نے ڈر کر گھوڑا سڑک سے دور کر لیا تو جگ ہنسائی ہوگی۔جب یہ ڈاکو ہمارے قریب پہنچے تو ان کے لیڈر نے جو سب سے آگے تھا مجھے بڑے ادب سے سلام کیا۔میں نے اسے کہا تم کون ہو۔اس نے جواب میں اپنا نام بتا یا اور کہا آپ کا خادم۔میں نے کہا کہ چہرہ پر سے نقاب ہٹاؤ۔جب اس نے نقاب او پر کیا تو میں نے اسے پہچان لیا وہ اسی چور کا بیٹا تھا جس کا تذکرہ اوپر آچکا ہے۔غالباً اسے علم ہو گا کہ اس کے باپ کی میرے باپ نے مشکل وقت میں مدد کی تھی۔وفات آپ کی وفات چوراسی سال کی عمر میں ہوئی۔وفات کے دن بھی تین دیہات میں اپنی زرعی اراضی کا گھوڑی پر سوار ہو کر چکر لگا کر آئے۔آتے ہی دو پہر کا کھانا کھا کر اور نماز ظہر پڑھ کر لیٹ