تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 181
تاریخ احمدیت۔جلد 27 181 سال 1971ء ضرورت ہے۔اس ناراضگی کی حالت میں مجھے والد صاحب نے حکم دیا کہ اگر تم احمدیت کو ترک کرنے کے لئے تیار نہیں تو میرے گھر سے ابھی نکل جاؤ۔مغرب اور عشاء کا درمیانی وقت تھا۔میں نے اپنی خیر اسی میں سمجھی کہ گھر سے چلا جاؤں۔جب میں گھر سے روانہ ہورہا تھا تو فرمانے لگے کہ ٹھہر جاؤ۔کچھ آٹا لیتے جاؤ تا کہ بھوکے تو نہ مرو۔میں نے آٹا باندھ لیا اور اس ارادہ کے ساتھ کہ حضرت چوہدری اللہ دتہ صاحب کے ذریعہ دینی تعلیم حاصل کرنے کے لئے قادیان چلا جاؤں ان کے گاؤں کی طرف چل پڑا۔اپنے گاؤں میں سے کوئی دو فرلانگ کے فاصلہ پر تھا کہ والد صاحب کو دوڑتے ہوئے اپنے پیچھے آتے دیکھا۔حقیقتاً اپنے اکلوتے بیٹے کیلئے شفقت پدری نے جوش مارا تھا لیکن میں انہیں آتاد یکھ کر سہم گیا کہ کہیں بدنی سزا نہ دیں اور اسی ڈر سے میں گندم کے کھیت میں چھپ گیا۔وہ سیدھے خانو والی کی طرف نکل گئے اور میں واپس گھر بیچ بستر میں دبک رہا۔آدھی رات کے قریب تلاش کے بعد واپس آئے اور فرمانے لگے کہ تم نے مجھے بہت پریشان کیا ہے اور بہت کو ستے رہے۔صبح ہوتے ہی مجھے ساتھ لے کر اپنے پیر صاحب کے پاس بدوملہی گئے اور جاتے ہی پیر صاحب کے سامنے سجدہ کیا اور نذرانہ پیش کیا اور زار و قطار رو کر عرض کیا کہ میرے دو بیٹے تھے ایک لاہور میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے فوت ہو گیا دوسرا یہ ہے جو مرزائی ہو گیا ہے۔گویا میں اس دنیا سے یونہی ابتر چلا جاؤں گا۔پیر صاحب نے انہیں بہت تسلی اور تشفی دی اور مجھے مخاطب ہو کر نہایت نرمی اور محبت سے کہنے لگے کہ دیکھو بیٹا ہم آسمانی لوگ ہیں ہم نے اپنی روحانی آنکھ سے زمین و آسمان میں غور کیا ہے۔ہمیں مرزا صاحب کی سچائی کا علم نہیں ہوا۔اگر وہ سچے ہوتے تو ہمیں ان سے کیا عداوت ہے ہم بھی مان لیتے تم غور کرو کہ مرزا صاحب (نعوذ باللہ ) کیسی الٹی بات کرتے ہیں۔تیرہ سو سال سے ساری امت حضرت عیسی علیہ السلام کو آسمان پر زندہ مانتی چلی آئی ہے اور مرزا صاحب کہتے ہیں کہ وہ فوت ہو چکے ہیں ان کی یہ بات قرآن مجید کے خلاف ہے۔انہیں ایام میں میں نے سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب ازالہ اوہام کا کئی بار مطالعہ کیا تھا اور مجھے وفات حضرت مسیح ناصری کے متعلق اکثر آیات از برتھیں۔میں نے پیر صاحب کی خدمت میں عرض کیا کہ اگر آپ مجھے قرآن مجید سے ایک آیت ایسی دکھا دیں جس سے حضرت مسیح ناصری کا بجسد عنصری آسمان پر جانا ثابت ہو تو میں آپ کی ہر بات مان لوں گا۔اس پر پیر صاحب نے قرآن مجید کھول کر دو تین بار ورق گردانی کی اور مجھے کہنے لگے کہ قرآن مجید ایک اتھاہ سمندر کے مشابہ ہے بعض اوقات سمندر میں غوطہ زنی کے باوجود موتی نہیں ملتے۔اسی طرح با وجود