تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 180 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 180

تاریخ احمدیت۔جلد 27 180 سال 1971ء حضرت چوہدری اللہ بخش صاحب بیان فرماتے ہیں کہ:۔۱۹۰۵ء کا واقعہ ہے یہ عاجز تلونڈی بھنڈراں تحصیل رعیہ ضلع سیالکوٹ کے سکول میں تعلیم حاصل کرتا تھا۔سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا روح پرور اور زندگی بخش پیغام شہروں سے نکل کر دیہات میں پہنچ رہا تھا۔علاقے میں جو لوگ نور احمدیت سے منور ہو چکے تھے ان میں سے ایک بزرگ حضرت چوہدری اللہ دتہ صاحب نمبر دار ساکن خانو والی بھی تھے۔حضرت مسیح پاک کی پاک صحبت نے ان کے علم ، ایمان اور اعمال میں وہ جلا بخش دی تھی ، وہ عاشقانہ اور دیوانہ وار تبلیغ احمدیت میں مصروف و مشغول رہتے تھے۔ان کا گاؤں تلونڈی بھنڈراں سے تین میل کے فاصلہ پر تھا۔لیکن وہ ایک با قاعدہ پروگرام کے ماتحت میرے اساتذہ کرام کو تبلیغ کے لئے تشریف لاتے رہتے تھے۔میرا گاؤں چندر کے منگولے تلونڈی بھنڈراں سے ۴ میل کے فاصلہ پر حضرت چوہدری صاحب کے گاؤں کے رخ پر ہی ہے اور ان کے اور میرے گاؤں کا درمیانی فاصلہ ایک میل ہے۔ان کی مومنانہ فراست نے بھانپ لیا تھا کہ جب وہ میرے اساتذہ کو تبلیغ کرتے ہیں تو میں ہمہ تن توجہ بن کر اسے سنتا ہوں۔سکول بند ہونے پر وہ میرے ساتھ گاؤں کی جانب چل پڑتے اور سارا راستہ پیغام احمدیت سے روشناس کراتے اور وقتاً فوقتاً سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب مطالعہ کے لئے دیتے۔انہی کی زبانی تبلیغ اور کتب کے مطالعہ کے بعد میرا سینہ احمدیت کو قبول کرنے کے لئے کھل گیا اور باوجود علاقہ میں انتہائی مخالفت ہونے کے میں سید نا حضرت مسیح پاک علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت سے مشرف ہو گیا۔الحمد لله علی احسانه و اکرامہ۔میری بیعت کا علم جب میرے والد ماجد کو ہوا تو وہ بہت برہم ہوئے ان کی ناراضگی کی کوئی انتہا نہ رہی وہ ایک متمول اور بے حد محنتی زمیندار تھے۔لیکن عام مسلمانوں کی طرح دین اسلام سے بالکل بے بہرہ تھے۔ناراضگی کے وقت بار بار کہتے کہ مرزائی تو پانچ وقت مسجدوں میں جا کر وقت ضائع کرتے ہیں۔۵۰-۶۰ میل دور پیر ماننے کا کیا فائدہ ہے۔ہمارے پیر تین چار کوس دور بدوملہی میں ہیں۔ہم سارے دن کا کام سرانجام دے کر سال میں ایک آدھ دفعہ انہیں سلام کر آتے ہیں۔قادیان جا کر واپس آنے کے لئے کم از کم آٹھ دس دن ضائع ہوتے ہیں۔ان کی ان باتوں کی وجہ سے میرا ایمان اور مضبوط ہوتا کہ اس زمانہ میں جبکہ مسلمانوں کی حالت اس حد تک گر گئی ہے کہ نمازوں کی ادائیگی کو تضیع اوقات سمجھی جاتی ہے۔ضرور کسی مصلح ربانی کی