تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 182 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 182

تاریخ احمدیت۔جلد 27 182 سال 1971ء تلاش کے مجھے حیات مسیح کے متعلق حوالہ نہیں مل سکا۔میں نے دریافت کیا کہ آپ کونسی آیت تلاش کرنا چاہتے ہیں۔کہنے لگے جس میں عیسی کے رفع کا ذکر ہے۔میں نے آیت وَ مَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلكِنْ شُبّهَ لَهُمْ۔۔۔بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ (النساء: ۱۵۹-۱۵۸)۔۔۔۔نکال کر پیش کر دی لیکن وہ اس سے کوئی استدلال نہ کر سکے۔مجھے یقین ہو گیا کہ پیر صاحب قرآن نہیں جانتے۔میں نے اس آیت کی تفسیر پیش کی۔یہودی مصلوب اور مقتول کو عنتی سمجھتے تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان دو قسم کی موتوں کی حضرت عیسی علیہ السلام کے متعلق نفی کی ہے اور واضح فرمایا ہے کہ ہم نے حضرت عیسی علیہ السلام کو باعزت موت دی اور لفظ رفع کے معنی قرآن مجید کی دیگر آیات سے بتائے اور وفات مسیح کے متعلق بہت سی قرآنی آیات پیش کر کے استدلال کیا۔اس پر پیر صاحب نے میرے والد صاحب کو مخاطب کر کے کہا کہ اس کی اصلاح ناممکن ہے۔میرے والد صاحب بادل نخواستہ مجھے واپس لے آئے اور آہستہ آہستہ اس علاقہ میں احمدیت کی ترقی ہوتی چلی گئی۔اس علاقہ میں جن بزرگوں کے ذریعہ تبلیغ ہوئی ان میں سے مندرجہ ذیل حضرات جن کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا صحابی ہونے کا شرف اور عزت حاصل ہے خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ا۔حضرت ڈاکٹر سید عبدالستار صاحب ( آپ سیدنا حضرت خلیفہ امسیح الرابع کے نانا تھے ( ناقل ) جو رعیہ میں متعین تھے۔۲۔حضرت چوہدری اللہ دتہ صاحب جن کا ذکر اوپر آچکا ہے۔۳۔حضرت چوہدری عبداللہ خان صاحب آف کھیوہ باجوہ۔۴۔حضرت چوہدری غلام محمد صاحب آف پوہلہ مہاراں سیالکوٹ۔۵۔حضرت سید نذیر حسین صاحب آف گھٹیالیاں۔۶۔حضرت چوہدری عبداللہ خان صاحب آف دانہ زید کا۔۷۔حضرت مولوی فضل کریم صاحب و عبدالکریم صاحبان آف قلعه صو با سنگھ۔اللہ تعالیٰ کی بیشمار رحمتیں اور فضل ان لوگوں پر ہوں“۔66 چو ہدری صاحب ساری عمر سلسلہ احمدیہ کی خدمت میں سرگرم عمل رہے۔سیکرٹری مال اور سیکرٹری اصلاح وارشاد کی حیثیت سے آپ کی خدمات قابل قدر ہیں۔آپ کے فرزند چوہدری محمد اسحاق صاحب مبلغ ہانگ کانگ تحریر فرماتے ہیں:۔”میرے دادا جان میرے والد ماجد کی قبول احمدیت کے تیرہ سال بعد ۱۹۱۸ء میں نو راحمدیت سے منور ہوئے اور اپنی وفات ۱۹۲۲ ء تک بڑے مؤثر انداز میں احمدیت کی صداقت کے متعلق دعوت الی اللہ کرتے رہے۔