تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 171 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 171

تاریخ احمدیت۔جلد 27 171 سال 1971ء احمدیہ مشن امریکہ۔۲۔محترمہ امتہ العزیز صاحبہ اہلیہ مرزا محمد ادریس صاحب مبلغ انڈونیشیا آفس سیکرٹری لجنہ اماءاللہ مرکزیہ۔۳۔محترمہ امتہ الکریم صاحبہ لندن۔۴۔شیخ نصیر الدین احمد صاحب ایم اے واقف زندگی۔۵۔محترم منیر الدین احمد صاحب سکھر۔44 حضرت حشمت بی بی صاحبہ ولادت : ۱۸۹۴ بیعت : ۱۹۰۵ء وفات : ۶ را گست ۱۹۷۱ء آپ مولوی رحمت اللہ منصرم سنگر ور ریاست جیند مشرقی پنجاب کی اہلیہ تھیں۔آپ نے ۶ راگست بروز جمعتہ المبارک وفات پائی۔آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت ۱۹۰۵ء میں ان دنوں میں کی جب حضور سفر دہلی سے واپسی پر بمقام لدھیانہ قیام فرما ہوئے۔آپ بیان فرماتی تھیں کہ حضرت اقدس دو پہر کے وقت بذریعہ ریل گاڑی لدھیانہ پہنچے تھے۔اسی شام مغرب کی نماز سے کچھ دیر بعد عاجزہ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔حضرت اقدس علیہ السلام اس وقت پلنگ پر تشریف فرما تھے۔سر پر رومی ٹوپی اور سفید لباس زیب تن تھا۔بیعت کے لئے دس بارہ کے قریب عورتیں موجود تھیں۔حضور اقدس نے بیعت کرنے والی عورتوں سے دریافت فرمایا کہ بیعت کے الفاظ اردو میں کہلائے جاویں یا پنجابی زبان میں۔اس پر چند عورتوں نے پنجابی زبان کی درخواست کی۔چنانچہ حضور الفاظ بیعت بولتے جاتے تھے اور ہم عورتیں انہیں اونچی آواز میں دو ہراتی جاتی تھیں۔بیعت کے دوران بہت سی عورتیں حضرت اقدس کی زیارت کی غرض سے کمرے کی کھڑکیوں اور دروازوں میں کھڑی تھیں۔بیعت اور دعا کے اختتام پر حضور نے عورتوں کی کثرت اور ان کے اشتیاق زیارت کو دیکھ کر ارشاد فرمایا کہ آپ گھبرائیں نہیں میں باہر آجاتا ہوں۔چنانچہ حضور باہر تشریف لا کر وسط صحن میں کھڑے ہو گئے۔اور پانچ سات منٹ وہاں کھڑے رہے۔اس کے بعد حضور اسی کمرہ میں جس میں بیعت ہوئی تھی واپس تشریف لے گئے۔اگلے روز صبح کو حضور کی تقریر لدھیانہ میں مجمع عام میں ہوئی۔یہ تقریر ایک مکان کے آگے کھلی جگہ میں ہوئی۔ہم عورتوں نے حضور کی تقریر پاس کے ایک مکان کی چھت پر جھرنوں کے پیچھے بیٹھ کر سنی۔حشمت بی بی صاحبہ صوم وصلوٰۃ کی سختی سے پابند تھیں۔جب تک صحت نے اجازت دی نفلی روزوں کا اہتمام رکھا۔کثیر تعداد میں بچوں کو قرآن کریم پڑھایا۔سادہ زندگی اور مسلسل محنت آپ کا شعار تھا۔اپنا کام خود اپنے ہاتھ سے کرنے کی عادی تھیں۔فقیروں اور سائلوں کو خالی ہاتھ واپس بھیجنا