تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 172 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 172

تاریخ احمدیت۔جلد 27 172 سال 1971ء نا پسند کرتی تھیں۔آپ کی تدفین مقبرہ بہشتی ربوہ میں ہوئی۔15 اولاد: غلام احمد قریشی صاحب بہاولپور۔اعجاز الحق قریشی صاحب اسلام آباد حضرت حکیم محمد زاہد صاحب ولادت : ۱۸۹۸ء بیعت تحریری: 1901ء 46 دستی بیعت : ۱۹۰۴ ء وفات ۸ /اگست ۱۹۷۱ ء 47 آپ حضرت بدر الدین صاحب ساکن شورکوٹ ضلع جھنگ کے بیٹے تھے۔آپ کا بیان ہے کہ میں نے پہلی دفعہ قادیان جانے پر وہاں ڈیڑھ ماہ قیام کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ جبکہ حضور مسقف گلی سے گذر کر سیر کو جاتے تھے سیر کا موقعہ ملا۔اسی گلی میں بابا پیغمبر اسنگھ بیٹھا ہوا تھا۔ایک دفعہ جبکہ گرمی کا موسم تھا اور بارش نہ ہوتی تھی۔لوگوں نے صلوٰۃ استسقاء کے لئے حضور سے کہا۔حضور علیہ السلام نے مان لیا۔آخر دو پہر سے کچھ پہلے مرد حضرت صاحب کے ساتھ باہر گئے اور ہم حضرت اماں جان والے گروپ میں باغ میں گئے۔باغ میں ایک حویلی تھی۔باہر سے حضرت صاحب نے حویلی کے اندر حضرت اماں جان کے پاس کچھ ٹوکرے بھجوائے جن میں آم اور آڑو تھے کہ بچوں میں تقسیم کر دئیے جائیں۔چنانچہ حضرت اماں جان نے ہم سب بچوں میں ان چیزوں کو تقسیم کیا۔بالآ خر حضرت اماں جان کے پاس حضور کا رقعہ آیا کہ بچوں کو لے کر فوراً شہر چلے جائیں۔امید ہے سخت بارش ہو گی۔چنانچہ ابھی ہم شہر پہنچے ہی تھے کہ سخت بارش شروع ہو گئی اور ہمارے کپڑے بھی بھیگ گئے۔جب میں نے بیعت کی اس وقت مجلس میں میرے والد صاحب بھی موجود تھے اور ہم دونوں یعنی میں اور میرے دوسرے بھائی حضرت مولوی نور الدین صاحب کے ساتھ ان کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے۔جب بیعت کا موقعہ بنتا نظر آیا تو میرے والد صاحب نے اونچی آواز سے فرمایا کہ محمد عابد اور محمد زاہد تم دونوں بھی بیعت کر لو۔میرے والد صاحب کے اس طرح آواز دینے پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہنس پڑے۔میرے والد صاحب نے عرض کیا کہ اگر حضور فرماویں تو بچوں کے نام تبدیل کر دوں۔آپ (حضور) نے فرمایا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) کے طفیل یہ عابد اور زاہد ہو جائیں گے۔جب میں رخصت ہونے کے لئے اندر گیا تاکہ حضور سے اجازت حاصل کروں تو دیکھا کہ