تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 170 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 170

تاریخ احمدیت۔جلد 27 170 سال 1971ء بیٹا دے گا تو اسے دین کی خدمت کے لئے وقف کروں گی اور امریکہ کا داعی الی اللہ بناؤں گی۔لیکن جب بیٹی پیدا ہوئی تو اپنی اس دعا کو بھول گئیں۔بعد میں حضرت فضل عمر نے خود اپنی مرضی سے امریکہ کے داعی الی اللہ صوفی مطیع الرحمن صاحب سے اس بیٹی کی شادی طے کر دی۔اس طرح اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو سنا اور بیس سال کے بعد اس کی قبولیت ظاہر فرما دی۔چنانچہ ہمشیرہ صاحبہ کو ایک لمبا عرصہ امریکہ میں اپنے شوہر کے ساتھ رہ کر خدمت دین کی توفیق ملی۔بعد میں بڑے بیٹے شیخ نصیر الدین احمد صاحب نے مولوی فاضل اور شاہد کی ڈگری لینے کے بعد BSC، ایم اے عربی اور صحافت میں ڈگری لے کر ایک لمبا عرصہ مغربی افریقہ میں خدمات سرانجام دیں۔بڑی بیٹی نے امریکہ میں اپنے شوہر کے ساتھ اور خاکسارہ نے نارتھ بور نیو میں پہلے والد صاحب کے ساتھ پھر شوہر کے ساتھ خدمت دین کی سعادت حاصل کی۔والد صاحب میڈیکل کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد مع اہل و عیال افریقہ تشریف لے گئے۔چھ سات سال وہاں رہیں۔ایک چھوٹے سے قصبے میں رہائش تھی لیکن والدین دونوں ہی باقاعدگی سے دعوت الی اللہ کے کام میں مصروف رہے۔جہاں بھی رہتیں ہمسایوں کے ساتھ بہت اچھے تعلقات رکھتیں اور غیر از جماعت خواتین کو اپنی جماعت سے متعارف کراتی رہتیں۔کراچی سے والد صاحب یورپ اور افریقہ چلے گئے والدہ کئی سال بچوں کی نیک تربیت اور تعلیم کی خاطر قادیان میں ہی رہتیں۔قادیان کے محلہ دارالشکر میں ایک لمبا عرصہ لجنہ کی سیکرٹری رہیں اور کچھ عرصہ بطور صدر کے بھی خدمت کی توفیق انہیں ملی۔انہیں حضرت بانی سلسلہ حضرت اماں جان اور خاندان حضرت بانی سلسلہ احمدیہ سے والہانہ عشق تھا۔خاندان کے چھوٹے بچوں کا بھی بہت احترام کرتیں اور عقیدت رکھتیں۔حضرت فضل عمر کی خدمت میں بہت کثرت سے حاضر ہوتیں۔آخری عمر میں اکثر یہ دعا کرتیں کہ اے خدا کسی کا محتاج نہ کرنا۔ایک روز بڑی حسرت سے مجھے کہنے لگیں کہ معلوم نہیں ملاقات کب ہوتی ہے۔میں نے پوچھا کیسی ملاقات۔کہنے لگیں خدا تعالیٰ سے۔چند روز بعد ہلکا سا دل کا حملہ (Heart Attack) ہوا۔۔۔۔چند روز کے بعد دوسری بار ہوا تو ڈاکٹر نے فوری طور پر ہسپتال داخل کر لیا۔چار روز بعد دو پہر کو پھر حملہ (Attack ) ہوا ہم دیکھتے ہی رہ گئے اور وہ تھوڑی ہی دیر میں اللہ کے حضور حاضر ہو گئیں اور سکون سے ابدی نیند سوگئیں“۔43 اولاد: ۱- محترمہ امتہ الرحیم عطیہ صاحبہ اہلیہ محترم صوفی مطیع الرحمن صاحب بنگالی مرحوم انچارج