تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 169
تاریخ احمدیت۔جلد 27 169 سال 1971ء اللہ کے جذبہ سے سرشار تھے۔میں نے اکثر دیکھا کہ اگر والد صاحب کبھی علیل ہوتے تو والدہ کی طبیعت بھی مضمحل ہو جاتی اور باقاعدہ بیمار ہو جاتیں۔ایک بار۱۹۳۷ء میں جب والد صاحب جماعت کراچی کے پریذیڈنٹ تھے، جلسہ پر قادیان آئے اور شدید بیمار ہو گئے۔دونوں پھیپھڑے نمونیا سے سخت متاثر ہوئے۔والدہ صاحبہ اور بچے کراچی میں تھے۔فوری طور پر ہمیں قادیان بلوایا گیا۔والدہ صاحبہ کوکوئی ہوش نہیں تھی۔دن رات روتیں اور سجدوں میں بیقراری سے دعائیں کرتیں۔دن رات تیمار داری کرتیں۔اور جب کمرے سے باہر آتیں تو انتہائی بیقراری کے ساتھ سجدے میں گر کر دعائیں کرتیں۔قریباً ایک ماہ بعد والد صاحب شفا یاب ہوئے۔سب یہی کہتے تھے کہ بیوی نے اللہ تعالیٰ سے انہیں دوبارہ مانگ لیا ہے۔اسی طرح افریقہ میں ایک بار والدہ صاحبہ بیمار ہوئیں۔انتہائی خطر ناک بیماری تھی اور اس بیماری سے ایک خاتون انہی دنوں فوت بھی ہو گئیں۔والد صاحب نے اتنی توجہ سے علاج کے ساتھ والدہ صاحبہ کی دن رات خدمت کی۔حضرت فضل عمر کو دعا کے لئے ٹیلیگرام بھجوائے۔تین ماہ بستر پر رہیں۔الغرض دونوں ایک دوسرے پر جان چھڑکتے تھے۔اپنی شادی کے بارے میں ہمیں بتاتیں کہ بچپن سے ہی یہی دعا کرتیں کہ یا اللہ ایسے گھرانہ میں شادی ہو جہاں ہر وقت اللہ رسول کا ذکر ہوتا رہے۔چنانچہ شادی کی پہلی رات کو ہی جب اپنے محترم سر کو دیکھا کہ وہ تہجد کی نماز کے لئے بیدار ہوئے ہیں اور گھر میں روزانہ قرآن مجید کا درس بھی ہوتا ہے تو اللہ کا بہت شکر ادا کرتیں کہ کتنا نیک گھرانہ ہے۔حضرت سیدہ امتہ الھی بیگم صاحبہ حرم حضرت فضل عمر سے بہت دوستی اور پیار تھا۔گھر کے کاموں سے فارغ ہوکر اکثر حضور کے گھر آئمکر مہ کے پاس چلی جاتیں۔اسی طرح ان کی نیک صحبت کے علاوہ حضور اقدس سے ملاقات کا شرف حاصل ہوتا رہتا۔حضرت اماں جان کے ساتھ انتہائی عقیدت اور احترام کے ساتھ عشق کی حد تک پیار تھا۔جب تک آئٹمکرمہ کی خدمت میں حاضر ہو کر انہیں مل نہ لیتیں قرار نہ پاتیں۔حضرت اماں جان بھی والدہ صاحبہ سے بہت شفقت فرماتیں۔بیٹیوں کی طرح سمجھتیں اور ہر بات کا خیال رکھتیں۔والدہ صاحبہ بتاتی ہیں کہ شادی سے پہلے حضرت اماں جان کی والدہ صاحبہ کے پاس بھی بہت جاتی تھیں۔ان کے سر میں تیل ڈال کر کنگھی کرتیں جس پر وہ خوش ہو کر والدہ کو بہت دعائیں دیتیں۔والدہ صاحبہ بتاتی تھیں کہ اپنی سب سے بڑی بیٹی کی پیدائش سے قبل دعا کی کہ یا اللہ اگر تو مجھے