تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 168
تاریخ احمدیت۔جلد 27 168 سال 1971ء پیدا ہوئیں۔جہالت کے اس زمانہ میں والدہ صاحبہ کا خاندان پڑھا لکھا اور سیّد ہونے کی وجہ سے علاقے بھر میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔والدہ صاحبہ کے دادا کے ذریعہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے متعلق اطلاع ملی کہ آپ بہت دور ہندوستان میں آئے ہیں۔چنانچہ دادا نے فیصلہ کیا کہ ہندوستان جا کر حضرت بانی سلسلہ کی خدمت میں حاضر ہو کر دستی بیعت کرنی چاہیے۔لیکن شہزادہ سید عبداللطیف صاحب کی شہادت کی وجہ سے مخالفت بہت تھی اور دن کے وقت گھر سے نکلنا خطرہ سے خالی نہیں تھا۔چنانچہ ایک رات والدہ صاحبہ کا خاندان عازمِ ہندوستان ہوا۔بتاتی تھیں کہ میں چھوٹی سی تھی دادی اماں نے میری قمیض کی جیبوں کو خشک میووں سے بھرا۔چند انڈے ابال کر وہ بھی ڈالے۔اپنے آبائی وطن سے پیدل پہاڑوں اور گھنے جنگلات کو عبور کرتے ہوئے ساری رات چلتے رہے۔بار بار پتھروں سے ٹھوکر لگتی اور گر پڑتیں۔صبح ہونے تک کافی دور نکل آئے۔پھر دن کی روشنی میں ہندوستان کی سرحد میں داخل ہوئے اور قادیان پہنچے۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔کچھ عرصہ قادیان میں حضرت اقدس کی بابرکت صحبت سے فیضیاب ہونے کے بعد اپنے وطن واپس چلے گئے۔اس کے بعد جب دوبارہ وہاں سے مکمل ہجرت کر کے مستقل رہائش کی غرض سے قادیان آئے تو حضرت اقدس کا وصال ہو چکا تھا۔حضرت مولوی نورالدین صاحب منصب امامت پر فائز تھے۔چھوٹی عمر تھی۔سارا سارا دن حضرت مولوی صاحب کے گھر آپ کی صاحبزادی حضرت سیدہ امتہ الحی صاحبہ کے ساتھ کھیلتی رہتیں اور جب بھی موقع ملتا اپنی عمر کے لحاظ سے حضور کی خدمت کرتی رہیں۔۔۔۱۹۱۲ ء یا ۱۹۱۳ء کو حضرت فضل عمر کے ایماء پر خانصاحب مولوی فرزند علی صاحب نے اپنے بیٹے ڈاکٹر حافظ بدرالدین احمد صاحب کا نکاح میری والدہ سے کر دیا۔والد صاحب کی عمر ۱۷ سال تھی اور میٹرک کے امتحان سے فارغ ہوئے تھے۔والدہ چودہ سال کی تھیں۔والدہ افغانستان کے ملک سے تعلق رکھتی تھیں۔پنجابی زبان بھی پشتو لہجہ میں ہی بولتی تھیں۔پنجابی سسرال میں رہنا جبکہ والد میڈیکل کی تعلیم کے سلسلہ میں اکثر و بیشتر لا ہورہی میں قیام پذیر ہوتے۔ماحول میں زمین و آسمان کا فرق۔بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔لیکن اپنے شو ہر محترم سے کبھی کسی قسم کی تکلیف کا اظہار نہ کیا اور یہ شادی اللہ کے فضل سے بہت کامیاب رہی۔دونوں بہت دیندار، در دوالحاح سے اللہ کے حضور دعائیں کرنے والے، تہجد کی نماز کے لئے ایک دوسرے کو اٹھانے والے، خدمت دین اور داعی الی