تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 109
تاریخ احمدیت۔جلد 27 109 سال 1971ء 66 بندی اور طیارے کے بہتر استعمال کے ذریعے انہوں نے دشمن کے اس حملے کو بھی ناکام بنادیا۔چنانچہ انتہائی نامساعد حالات میں مثالی جرأت اور شاندار مہارت کے مظاہرے پر فلائنگ آفیسر محمد شمس الحق کوستارہ جرأت عطا کیا جاتا ہے۔108 اسی طرح پاک فضائیہ کے میگزین ”شاہین نے مئی۔اگست ۱۹۷۲ء کی اشاعت میں صفحہ ۱۶ پر آپ کا مضمون "My War Experience" ایڈیٹر کے اس تعارفی نوٹ کے ساتھ شائع کیا:۔( ترجمہ ) فضا میں ایک بے نظیر کارنامہ دسمبر ۱۹۷۱ء میں جب انڈیا اور پاکستان کے مابین جنگ چھڑی تو نو خیز فلائنگ آفیسر محمد شمس الحق (جن کی عمر میں سال سے کچھ زائد ہوگی ) کو سکواڈرن ۱۴ بمقام ڈھا کہ میں متعین کیا گیا تھا۔وہاں پاکستان فضائیہ کی صرف ایک ہی سکواڈرن موجود تھی جس کا مقابلہ آٹھ سے دس سکواڈرنز سے تھا۔تعداد اور طاقت کے لحاظ سے بھی پاکستان کے پرانے سیر طیاروں کا دشمن کے پوری طرح مسلح جدیدترین طیاروں سے کوئی جوڑ نہ تھا۔مگر تعداد اور استعدادوں کی یہ عدم مساوات ہمارے ہوا بازوں کے آگے دشمن سے مقابلہ میں ہرگز روک نہ بنی۔اسی طرح کے ایک محاربہ میں جو کہ ۴ دسمبر کی صبح ہوا، فلائنگ آفیسر شمس نے پانچ دشمن طیاروں کا تن تنہا مقابلہ کیا اور تین کو مار گرایا۔ان میں سے دو ہنٹر طیارے اور ایک ایس یو ے طیارہ تھا۔اس دلیرانہ کارنامہ اور ہنرمندی کا شاندار نتیجہ ۱۹۶۵ء میں ونگ کمانڈر محمدمحمود عالم کے تاریخ ساز کارنامہ کے برا بر ہی نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر ممتاز ہے کیونکہ فلائنگ آفیسر شمس نے ہر ایک جہاز کا ایک ایک کر کے مقابلہ کیا اور بڑی مہارت اور تجربہ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان میں سے تین کو زمین پر مار گرایا۔اڑ ان کے دوران اس غیر معمولی اور شاندار کارکردگی کے اعتراف میں شمس کو ستارہ جرأت کا اعزاز دیا گیا ہے۔109 بریگیڈئیر محمد ممتاز خان صاحب۔ہلال جرات ۱۹۷۱ء کی دوسری بڑی لڑائی حسینی والا سیکٹر پر لڑی گئی۔ہندوستان نے ۲ دسمبر ۱۹۷۱ء کو لاہور کے محاذ پر حملہ کر دیا۔دشمن تعداد اور اسلحہ میں کئی گنا تھا مگر پاکستان کی بہادر افواج نے دشمن کو پرے دھکیل کر پاکستان کے دل لاہور کو دشمن کے حملے سے محفوظ کر لیا۔اس سیکٹر کی کمان بر یگیڈ ئیر ممتاز کے ہاتھوں میں تھی جنہوں نے بہادری، جرأت اور شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کے پاؤں اکھاڑ