تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 110
تاریخ احمدیت۔جلد 27 110 سال 1971ء دیئے اور وہ پسپا ہونے پر مجبور ہو گیا۔حکومت کی طرف سے بریگیڈئیر ممتاز کی شاندار عسکری خدمات کے صلہ میں ہلال جرات کا اعزاز دیا گیا۔حسینی والا سیکٹر کے محاذ جنگ پر پاکستانی افواج کی بہادری اور دشمن کی ہزیمت کے متعلق روز نامہ امروز لا ہور لکھتا ہے۔د حسینی والا فیروز پور سیکٹر میں بھارتی سینا بھاری نقصان اٹھا کر پسپا ہو گئی۔نئی دہلی ۴ دسمبر۔بھارت نے اعتراف کیا ہے کہ اس کی فوجیں ہر محاذ پر پسپا ہو رہی ہیں۔بھارتی وزیر جنگ جگ جیون رام نے آج پارلیمنٹ میں بتایا کہ گھمسان کی جنگ کے بعد حسینی والا فیروز پور سیکٹر پر بھارتی فوجیں پسپا ہوگئیں۔اس محاذ پر بھارتی فوج کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔110 جماعت احمدیہ کے اس دلیر مجاہد نے ہندوستان کے قلعہ قیصر ہند کو فتح کیا اور اس قلعے کو سر کر کے ہندوستان کے ایک عظیم دفاعی مورچہ پر قبضہ کر لیا جس میں بہت سا اسلحہ اور گولہ بارود کا ذخیرہ تھا جو پاکستانی افواج کے ہاتھ لگا۔بریگیڈئیر ممتاز نے اپنی تمام صلاحیتیں وطن کے دفاع میں صرف کر دیں اور ہندوستانی افواج کو نہ صرف پرے دھکیل دیا بلکہ آگے بڑھ کر دشمن کے علاقہ پر قبضہ کر لیا۔بریگیڈئیر موصوف نے بہادری اور جرات اور شجاعت کا مظاہرہ کیا جس پر پاکستانی افواج اور عوام نے ان کی خدمت میں زبر دست خراج تحسین پیش کیا۔111 لیفٹینٹ کرنل بشارت احمد صاحب ۱۹۷۱ء کی جنگ میں آپ ۱۳ آزاد کشمیر بٹالین کی کمانڈ کر رہے تھے۔چھمب کے محاذ پر آپ اپنے طوفانی دستوں کے ساتھ تیزی سے آگے بڑھے کہ ان کا اپنے ہیڈ کوارٹر سے رابطہ منقطع ہو گیا۔اور آپ ساتھیوں سمیت دشمن کے نرغہ میں آگئے۔دشمن نے گولیوں کی بوچھاڑ شروع کر دی جس سے اکثر ساتھی شہید ہو گئے۔اور کچھ زخمی ہوئے۔آپ بھی زخمی تھے۔دشمن نے زخمیوں کو قیدی بنالیا۔زیادہ خون بہہ جانے کی وجہ سے آپ میں خون کی کمی ہوگئی۔آپ کو علاج کے لئے ہسپتال بھجوادیا گیا۔بعد میں ۲۲ فروری ۱۹۷۲ ء کو زخمی قیدیوں کے تبادلہ میں آپ پاکستان آگئے۔ہندوستانی فوج سے مقابلہ میں جس جرات اور بہادری کا آپ نے مظاہرہ کیا اس کے صلہ میں آپ کو تمغہ امتیاز سے نوازا گیا۔دورانِ قید جب آپ ہسپتال میں زیر علاج تھے تو ہندوستانی افواج کا کمانڈر انچیف جنرل مانک شا خود آپ کے کمرہ میں آیا اور آپ سے اس نے کئی سوالات کئے۔جن کے آپ نے نہایت دلیرانہ