تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 108
تاریخ احمدیت۔جلد 27 108 سال 1971ء انفینٹری ڈویژن ۲۳ نے بہت بہادری سے جنگ کر کے آزاد کشمیر میں کافی علاقہ حاصل کر لیا۔ڈویژن کے سر براہ میجر جنرل افتخار جنجوعہ ایچ جے تھے جو ایک بہت دلیر جرنیل تھے ان کی وفات کے بعد ان کی جگہ ڈویژنل بریگیڈیر کمال متین الدین نے لی جس میں اپنے پیش رو جیسی شخصیت، تجربے اور مجاہدانہ عزم کا فقدان تھا۔107 یادر ہے آزاد کشمیر کے مشہور قصبہ چھمب کا نام میجر جنرل افتخار جنجوعہ کی عظیم الشان جنگی خدمات کے اعتراف کے طور پر ۲۰ مارچ ۱۹۷۲ء کو افتخار آباد رکھا گیا۔فلائنگ آفیسر محمد شمس الحق صاحب ستارہ جرات فلائنگ آفیسر محمد شمس الحق ۳۱ اکتوبر ۱۹۴۷ء کو پشاور میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم سینٹ پیٹرک ہائی اسکول ماڑی پور کراچی میں حاصل کر کے پی اے ایف پبلک اسکول سرگودھا میں داخلہ لیا۔بعد ازاں پی اے ایف اکیڈیمی رسالپور میں تربیت حاصل کی اور 11 جنوری ۱۹۶۹ء کو بطور جی ڈی (پی ) فضائیہ میں کمیشن حاصل کیا اور پاکستانی فضائیہ کے مختلف مراکز میں خدمات انجام دیں۔سابق مشرقی پاکستان اور حال بنگلہ دیش ڈھاکہ کے ہوائی مرکز میں تعیناتی کے دوران دسمبر ۱۹۷۱ء کی پاک بھارت جنگ میں پاک فضائیہ میں اپنے سکواڈرن کے سب سے کم عمر اور کم تجربہ رکھنے والے ہوا باز ہونے کے باوجود بے مثال مہارت اور جرات کا مظاہرہ کیا۔پاک فضائیہ کی تاریخ ۷ ۱۹۴ء تا ۱۹۸۴ء میں آپ کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے۔اپنے سکواڈرن کے سب سے نوخیز اور کم تجربہ کار ہوا باز ہونے کے باوجود فلائنگ آفیسر محمد شمس الحق نے دورانِ جنگ مثالی جرات اور مہارت پرواز کا مظاہرہ کیا۔۴ دسمبر ۱۹۷۱ء کو انہیں ڈھا کہ مستقر پر حملہ آور چارا لیس یو۔ے طیاروں کے خلاف مزاحمتی کارروائی کے احکامات ملے۔جونہی وہ فضا میں بلند ہوئے بھارتی طیاروں نے ان کی فارمیشن پر میزائلوں کی بوچھاڑ کر دی مگر وہ انتہائی تحمل کے ساتھ کم رفتاری سے حملہ آور طیاروں پر جالپکے اور اپنے ونگ مین کو دوبارہ میزائل چھوڑنے کے لئے کہا بعد میں ایک جھڑپ کے دوران انہوں نے ایک ایس یوے کو مار گرایا۔اسی اثنا میں چار ہنٹر بھی لڑائی میں شریک ہو گئے۔فلائنگ آفیسر شمس الحق بلا تامل ہنٹر طیاروں پر پل پڑے اور ان میں سے دو کا کام تمام کر دیا۔اس کے بعد دشمن کے چار مگ طیاروں نے ان پر ہلہ بول دیا تاہم اپنی مستعد منصوبہ