تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 93 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 93

تاریخ احمدیت۔جلد 27 93 سال 1971ء مکان پر پھیلا ہوا ہے یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے ساتھ ہی دشمنی شروع ہو گئی تھی اور دشمنی بھی معمولی نہیں بلکہ بڑی سخت مخالفت اور دشمنی شروع ہوگئی تھی۔شروع میں تو سمجھا یہ گیا تھا کہ جنگ کی ضرورت نہیں ، ہم جنگ سے ورے ورے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ناکام اور اسلام کو نیست و نابود کر دیں گے۔لیکن جب جنگ سے ورے ورے یہ نا کامی اسلام کو نہ ہوئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آسمانی مہم میں کمزوری پیدا ہونے کی بجائے طاقت پیدا ہونی شروع ہوگئی تو پھر ایک وقت آیا کہ دشمنوں کو یہ خیال پیدا ہوا کہ انہیں مسلمانوں کے ساتھ جنگ کرنی چاہیے کیونکہ اس کے بغیر تو یہ مٹتے نہیں۔چنانچہ پھر جنگوں کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا۔مٹھی بھر مسلمان تھے۔ہم اگر تخیل کی نگاہ سے دیکھیں تو ہمیں ایک وہ زمانی محاذ نظر آتا ہے جو پہلی جنگ سے لے کر فتح مکہ کے زمانہ تک پھیلا ہوا ہے اور پھر خلافت راشدہ میں دوسرے محاذ ہیں۔زمانے کے لحاظ سے ایک محاذ میں اس لئے کہتا ہوں کہ ایک ہی چھوٹی سی فوج تھی مگر وہ فدائی تھی ، وہ مجاہد تھے اور وہ اللہ تعالیٰ کے لئے اپنی جانوں کو قربان کرنے کے لئے ہر لحظہ تیار تھے۔تاہم ان کا ایک مختصر سا گروہ تھا، وہی لڑتا رہا، کچھ بعد میں آنے والے اس کے ساتھ ملے لیکن وہی بنیادی گروہ تھا جنہوں نے پہلی جنگ میں بھی حصہ لیا پھر دوسری میں بھی حصہ لیا اور پھر تیسری میں بھی حصہ لیا۔بعد میں بھی ہمیں زمانے پر پھیلا ہوا یہی محاذ نظر آتا ہے۔مثلاً حضرت خالد بن ولید نے کسری کے خلاف ایران میں جو آٹھ دس جنگیں لڑی ہیں ان کے ساتھ کم و بیش اٹھارہ ہزار مسلمان سپاہی تھے۔ان میں سے بھی کچھ زخمی ہو گئے اور کچھ شہید ہو گئے۔غرض یہ ایک چھوٹی سی فوج تھی ، ایک چھوٹا سا گروہ تھا۔جو آج لڑ اوہی تین دن کے بعد لڑا اور پھر پانچ دن کے بعد بھی وہی لڑا۔تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد ان کو دشمن کی نئی فوج کے ساتھ جنگ لڑنی پڑی تھی۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی ایک دو دفعہ بتایا ہے ہر دفعہ ایرانیوں کی فوج جو مسلمانوں کے مقابلے پر آئی اس کی تعداد چالیس ہزار پھر ساٹھ ستر ہزار اور بعض دفعہ اسی ہزار اور بعض دفعہ ساٹھ ہزار سے کچھ کم ہوتی تھی۔