تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 94 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 94

تاریخ احمدیت۔جلد 27 94 سال 1971ء اب یہ بھی ایک فوج کا زمانے پر پھیلا ہوا محاذ ہے ہمارا مکان کے لحاظ سے پھیلا ہوا محاذ ہے۔ہمارا محاذ کراچی سے لے کر کارگل سے ہوتا ہوا دینا جپور سے سارے مشرقی پاکستان پر پھیلا ہوا ہے۔ہر محاذ پر ہماری مختلف ٹولیاں موجود ہیں پہلے ایک ہی ٹولی تھی جو زمانے میں پھیلی ہوئی نظر آتی ہے۔اب ایک فوج کی مختلف ٹولیاں ہیں یا گروہ ہیں یا ڈویژن ہیں یعنی فوج تقسیم ہو کر اس کی مختلف ٹولیاں ہمیں مختلف محاذوں پر نظر آتی ہیں۔جس طرح زمانے پر پھیلے ہوئے محاذ پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بعض دفعہ دکھ اٹھانا پڑتا تھا اور پریشانی اٹھانی پڑتی تھی آج ہمیں بعض محاذوں پر مکانی لحاظ سے وہ دکھ اور پریشانی اٹھانی پڑی ہے پس یہ خطرہ تو جنگ کے ساتھ لگا ہوا ہے۔جنگ کبھی ایک شکل اختیار کرتی ہے کبھی دوسری شکل اختیار کرتی ہے لیکن یہ جو جھڑپیں ہیں ان سے قسمتوں کا فیصلہ نہیں ہوا کرتا۔جو جنگ ہے اس کے جیتنے یا ہارنے سے قسمت کا فیصلہ ہوا کرتا ہے اور جنگ جیتنے کے لئے بنگال یعنی مشرقی پاکستان میں جو کچھ ہوا ہے اس کے باوجود جس انتہائی جدوجہد کی ضرورت ہے اس میں ایک ذرہ بھر کی نہیں آنی چاہیے اور نہ دلوں میں اداسی اور مایوسی پیدا ہونی چاہیے بلکہ اللہ تعالیٰ پر توکل اور بھی زیادہ بڑھنا چاہیے۔غرض جنگ میں تو اتار چڑھاؤ ہوتا رہتا ہے۔لیکن ایسے حالات میں بھی جو ہمارا رد عمل ہے خدا تعالیٰ پر کامل بھروسہ رکھنے کا اور اپنی جگہ پر اس یقین پر قائم رہنے کا کہ خدا تعالیٰ اپنے وعدوں کو پورا کرنے والا ہے اور یہ عزم کہ ہم اپنا سب کچھ اسلام کی شوکت اور اپنے بھائیوں کی مدد کے لئے قربان کر دیں گے۔وہ تو اپنی جگہ پر ہے۔ویسے ہمارے دل اس لئے دُکھیا نہیں کہ ایک محاذ کے اوپر ہمیں کچھ پریشانی اٹھانی پڑی ہے ہمارے دل اس لئے دکھیا ہیں اور اس وقت بڑا ہی دکھ محسوس کر رہے ہیں کہ مشرقی پاکستان میں رہنے والے قریباً 4 کروڑ مسلمانوں کو مصیبت پڑ گئی ہے اس لئے ہمارا دل دُکھتا ہے اور اگر ہمارا دل واقعہ میں دیکھتا ہے تو ہمیں ان کی خاطر اور بھی زیادہ قربانی دینی چاہیے۔آپ اس بات کا اندازہ نہیں لگا سکتے کہ وہ کس خطر ناک مصیبت میں مبتلا ہو گئے