تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 84 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 84

تاریخ احمدیت۔جلد 26 84 سال 1970ء اپنے تاثرات کا ذکر کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں ”میں اس حقیقت کا دلی طور پر اظہار کرتا ہوں کہ حضور اقدس کا وجود حقانیت کا زندہ ثبوت ہے۔اسکے بعد حضور کے بیان کو اس نے اپنے الفاظ میں یوں تحریر کیا ہے ” ہم سب برابر ہیں۔جماعت احمدیہ اور باقی مسلمانوں میں بنیادی عقائد کا کوئی فرق نہیں۔ان کے لئے قرآن کریم کامل کتاب اور اللہ تعالیٰ کا کلام پاک ہے جس سے عقائد صحیحہ۔اعلیٰ کامل اصول اور احکامات کا روحانی چشمہ بہتا ہے جس کی تعلیم سب مسلمانوں پر فرض ہے۔اسلام کی تعلیم غیر متبدل ہے خدا تعالیٰ کو واحد مانتے ہیں ہم عیسائیوں کے تثلیث کے عقیدہ کو نہیں مانتے۔اسلام ہی ایک ایسا مذ ہب ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے بندے کے درمیان براہ راست تعلق قائم کرتا ہے۔اسلام میں خدا تعالیٰ کو اللہ کہتے ہیں۔حضرت امام جماعت احمدیہ کے خیالات اور افکار میں انسانیت کے لئے گہری ہمدردی اور محبت کے جذبہ کا نمایاں اثر پایا جاتا ہے۔بنی نوع انسان سے سچی ہمدردی اور سچی محبت۔اس امر میں اسلام اور عیسائیت کا پیغام محبت کا پیغام ہے۔فرمایا ہم نے اپنے مبلغوں کے ذریعہ اس محبت کا پیغام اہل افریقہ کو پہنچایا ہے۔ہم نے کئی لاکھ دلوں کو فتح کر لیا ہے۔لنڈن میں ایک مجلس عرفان 88 حضرت خلیفہ المسح الثالث نے دورہ سپین سے واپسی پرلندن میں مجلس علم وعرفان سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:۔میں خدا تعالیٰ کے حضور بہت دعائیں کر رہا ہوں کہ خدا تعالیٰ ہماری جماعت میں بہت سے طارق اور خالد پیدا فرمائے۔جب ہم اسلام کے ابتدائی جرنیلوں کی سیرت کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں علم ہوتا ہے کہ نہ صرف جنگی اعتبار سے وہ نہایت قابل اور نمایاں صفات کے حامل تھے بلکہ دین میں بھی انہیں خاص مقام حاصل تھا۔بڑی بڑی جنگوں کے مواقع پر ان جرنیلوں نے جو تقاریر کی ہیں۔ان سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں خاص معرفت حاصل تھی اور دین پر عبور حاصل تھا ان لوگوں کا خدا سے زندہ تعلق تھا۔ان کی تقاریر کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ نو جوانی کی عمر میں ایسے علم اور ایسی روحانیت سے لبریز تھے کہ آج ہماری جماعت کے بڑے بڑے عالم ہی ان کی مثال پیدا کر سکیں گے۔