تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 83
تاریخ احمدیت۔جلد 26 83 سال 1970ء اس سے اس بات کی طرف اشارہ ہوا کہ سپین میں اسلام کی عظمت کے قیام کا ایک خاص وقت مقرر ہے اور یہ انشاء اللہ اب احمدیت کے ذریعہ قائم ہوگی۔طلیطلہ ومیڈرڈ کے لئے روانگی غرناطہ میں دو دن کے قیام کے بعد حضور براستہ طلیطلہ میڈرڈ کے لئے روانہ ہوئے۔طلیطلہ طارق کے حملہ کے وقت سپین کا صدر مقام تھا۔طارق کی فتح کے بعد بھی ایک عرصہ تک یہی دارالحکومت رہا۔بعد میں مسلمانوں نے قرطبہ اور پھر غرناطہ کو دارالحکومت بنایا۔طلیطلہ ایک بے آب و گیاہ چٹیل پہاڑی پر واقع ہے۔شہر کے اردگر دنشیب میں ایک دریا بہتا ہے۔یہ دریا شہر کی حفاظت کے لئے قدرتی خندق کا کام بھی دیتا ہے۔طلیطلہ میں آج بھی باوجود مرور زمانہ کے چار مساجد باقی ہیں۔اس میں سے ایک چھوٹی سی مسجد کو یہ فخر حاصل ہے ( اور تاریخی لحاظ سے اس کی اہمیت ظاہر و باہر ہے ) کہ یہاں طارق ابن زیاد نے پہلی نماز پڑھی تھی۔اور پھر خدائی تقدیر کے مطابق حضرت ناصر دین خلیفہ امسیح الثالث نے بھی اس میں دعا فرمائی۔مسجد کے باہر شہر کی فصیل ہے جہاں مسجد کے بالکل قریب ایک بہت بڑا دروازہ ہے حضور اس دروازہ سے باہر تشریف لائے۔باہر نکلے تو یو نیورسٹی کے ایک پروفیسر ملے۔انہوں نے بتایا کہ یہ وہ دروازہ ہے جو اسلامی دور حکومت میں خلیفہ کے شہر سے باہر نکلنے کے لئے مخصوص تھا اللہ تعالیٰ کی خاص حکمت نے حضور کو بھی اس دروازہ سے گزار کر گویا سپین میں اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی بنیا درکھ دی ہے۔طلیطلہ چھوٹا سا شہر ہے لیکن سیاح یہاں کثرت سے مساجد کو دیکھنے کے لئے آتے ہیں۔یہ مساجد اب حکومت نے نیشنل ٹرسٹ کی تحویل میں دے رکھی ہیں۔جو ان کی صفائی اور نگہداشت کا انتظام کرتا ہے۔طلیطلہ سے شام کو حضور میڈرڈ پہنچ گئے۔جہاں سے اگلے دن یعنی یکم جون ۱۹۷۰ء کو حضور لندن کے لئے روانہ ہوئے اور یہ تاریخی سفر اختتام پذیر ہوا۔ایک اخباری نمائندہ کو انٹرویو پین میں پو بلو (Pueblo) اخبار کے ایک نمائندے نے حضرت خلیفہ المسح الثالث سے انٹرویو کر کے اپنے اخبار میں جو کچھ شائع کیا اس کا ایک حصہ قارئین کی دلچسپی کے لئے درج ذیل ہے۔