تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 71 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 71

تاریخ احمدیت۔جلد 26 71 سال 1970ء انسان نے خدائے واحد کی طرف رجوع نہ کیا تو دنیا ایک ہولناک تباہی سے دوچار ہو جائے گی۔برطانیہ کے مشہور قومی اور کثیر الاشاعت اخبار لنڈن ٹائمنر (London Times) نے 19مئی ۱۹۷۰ء صفحہ یہ کی اشاعت میں حسب ذیل رپورٹ شائع کی :۔ایک بزرگ۔جو اپنے پیروؤں کے بیان کے مطابق مسیح موعود علیہ السلام کے پوتے۔چالیس لاکھ مسلمانوں کے مذہبی پیشوا اور خلیفتہ اللہ فی الارض ہیں۔اور جن کا خدا تعالیٰ سے براہِ راست تعلق ہے۔کل لندن میں ور و دفرما ہوئے انہوں نے ایڈورڈ سکین (Edwardian)انداز اور رکھ رکھاؤ کے آئینہ دار کیفے رائل“ نامی ہوٹل میں ایک پریس کانفرنس منعقد کی۔بلیول(Balliol) کالج آکسفورڈ کے فارغ التحصیل حضرت حافظ میرزا ناصر احمد صاحب اسلام کے اندر قائم ہونے والی جماعت احمدیہ کے امام ہیں۔یہ جماعت جسے آپ کے دادا نے آج سے اسی سال پہلے قائم کیا تھا۔دوسری قوموں کے افراد کو حلقہ بگوش اسلام بنانے میں مصروف ہے۔” حافظ ہونے کی حیثیت میں آپ ان قلیل التعدادلوگوں میں سے ہیں جنہوں نے قرآن کو زبانی یاد کیا ہوا ہے۔آپ کا جماعت میں انتخاب کے ذریعہ منصب خلافت پر فائز ہونا طالمود کی اس پیشگوئی کے وو 66 ظہور پر دلالت کرتا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ مسیح کا تخت اس کے پوتے کو ورثے میں ملے گا“۔خلیفہ اسیح کی عمر ۶۱ سال ہے آپ شادی شدہ ہیں اور پانچ بچوں کے باپ ہیں۔آپ بہت شریف النفس اور خاموش طبع ہونے کے علاوہ بہت پر اثر شخصیت کے مالک ہیں۔آپ سر پر سفید براق پگڑی پہنتے ہیں۔اور آپ کا چہرہ سفید داڑھی سے مزین ہے۔مزید برآں تفتن طبع سے بھی آپ کو وافر حصہ ملا ہے۔آپ نے تمام مرد اخبار نویسوں سے تو بڑی مسرت اور گرم جوشی کے ساتھ دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کیا لیکن اخبار نو میں خواتین سے ہاتھ نہیں ملایا۔اس موقع پر آپ نے انگریزی محاورہ کی رعایت سے فرمایا۔میں اجنبیت کی بیخ بستگی کو توڑنا چاہتا ہوں۔آبگینے نہیں“۔کمرہ میں ہر طرف جناح کیپس (پاکستانی ٹوپیاں) نظر آ رہی تھیں۔ان میں ایک وہ جناح کیپ بھی تھی جو ایک برطانوی نژاد امام نے اپنے سر پر پہنی ہوئی تھی۔وہ برطانوی نژاد امام تھے مسٹر بشیر آرچرڈ۔وہ جماعت احمدیہ کی طرف سے گلاسگو میں تبلیغی مشن کے انچارج ہیں۔انہوں نے گزشتہ عالمی جنگ کے دوران مشرق بعید میں فوجی خدمات بجالانے کے بعد ۱۹۴۵ء میں اسلام قبول کیا تھا۔