تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 72
تاریخ احمدیت۔جلد 26 72 سال 1970ء برطانیہ میں جماعت احمدیہ کے افراد کی تعداد چار ہزار ہے۔ملک بھر میں اس کی اکیس شاخیں ہیں اور اس کی اپنی ایک مسجد ہے۔ہیگ کی عالمی عدالت کے صدر سرمحمد ظفر اللہ خاں صاحب بھی وہاں تشریف فرما تھے۔خلیفہ مسیح نے وثوق کے ساتھ یہ کہہ کر کہ برطانیہ والوں کو اس امر کا پورا حق حاصل ہے کہ غیر ملکیوں کو برطانیہ میں آباد ہونے کی اجازت نہ دیں، افریقی اور ایشیائی اخبار نویسوں کو چونکا دیا۔آپ نے فرمایا۔ا نہیں تو یہ حق بھی حاصل ہے کہ وہ ان غیر ملکیوں سے جو یہاں پہلے سے آباد ہیں واپس اپنے وطن جانے کے لئے کہیں لیکن اہلِ برطانیہ کو اس امر کا خیال رکھنا چاہیے کہ وہ دوست کی حیثیت سے واپس جائیں نہ کہ دشمن بن کر۔“ آپ نے مزید فرمایا۔نیز فرمایا۔اگر لاکھوں یورپی باشندے پاکستان آنا شروع کر دیں اور وہاں آباد ہونا چاہیں تو میں اسے بھی نا پسند کروں گا“ اگر ہم اہل برطانیہ کے دل جیتنے میں ناکام رہتے ہیں تو پھر ہمیں ان کے درمیان رہنے کا کوئی حق نہیں رہتا۔برخلاف اس کے اگر ہم ان کے دل جیت لیتے ہیں تو پھر وہ ہمیں نہیں نکالیں گے“۔جب جنوبی افریقہ اور رہوڈیشیا کے بارے میں آپ سے اپنے نظریات بیان کرنے کے لئے کہا گیا تو آپ نے مروجہ طریق کے برخلاف اپنے سامعین میں حیرت کی ایک اور لہر دوڑا دی۔آپ نے فرمایا:۔” جب نام نہاد سیاہ فام لوگ ( نام نہاد اس لئے کہ میری نگاہ میں تو سیاہ رنگ بڑا خوبصورت رنگ ہے ) جنوبی افریقہ میں برسراقتدار آئیں گے تو مجھے امید ہے کہ وہ وہاں کے سفید فام باشندوں کے ساتھ مساویانہ درجہ کے پورے پورے شہریوں کی حیثیت سے بہت اچھا سلوک کریں گے۔چنانچہ حضور انور کی پیشگوئی کے عین مطابق جنوبی افریقہ کا بد نام The Black