تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 61 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 61

تاریخ احمدیت۔جلد 26 61 سال 1970ء پر یس کا نفرنس کے اختتام پر حضور انور اپنی رہائش گاہ کے صدر دروازہ پر تشریف لے گئے جہاں خوبصورت وردیوں میں ملبوس پینتیس کے قریب نو نہلان احمدیت نے اپنے پیارے آقا کا استقبال کیا۔حضور نے ان بچوں سے نہایت شفقت و پیار سے مصافحہ کیا۔شام کے وقت حضور مجلس عرفان میں تشریف فرمارہے اور رات گئے تک مخلصین تک اپنے ایمان افروز اور روح پر ورارشادات سے نوازتے رہے۔سیرالیون کے سر براہ مملکت اور وزیر اعظم سے ملاقات ہ مئی کو حضور نے سیرالیون کے سر براہ اور قائم مقام گورنر جنرل ہز ایکسی لینسی مسٹر بانجا تیجان سی سے ملاقات فرمائی۔گورنر جنرل صاحب نے بڑے احترام کے ساتھ حضور کا خیر مقدم کیا اور حضور کی تشریف آوری کو سیرالیون کے لئے ایک نیک فال اور رحمت کا نشان قرار دیا۔دورانِ گفتگو گورنر جنرل نے سیرالیون میں جماعت احمدیہ کی گراں قدر خدمات کی بہت تعریف کی۔انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں جماعت احمدیہ کے جاری کردہ سکولوں میں بہت عمدہ کام ہورہا ہے۔اس پر حضور نے فرمایا کہ حکومت قوم کے لئے بمنزلہ باپ ہوتی ہے اس کا فرض ہے کہ بچوں کے مفاد کا خیال رکھے۔نئی نسل کا حق ہے کہ اسے اچھی تعلیم دی جائے اور اس کی ذہنی صلاحیتیں اجاگر کی جائیں۔گورنر جنرل نے حضور سے پوچھا کہ اب تو آپ پر کام کا بہت بوجھ ہوگا ؟ حضور نے فرمایا کہ دیگر مصروفیات کے علاوہ صرف خطوط کی اوسط جن کو میں روزانہ پڑھتا ہوں تین سو سے ایک ہزار تک ہے۔بعض دفعہ ساری ساری رات احباب کے لئے دعائیں کرتا ہوں۔پہلے آٹھ گھنٹے روزانہ سوتا تھا اب صرف اڑھائی گھنٹے نیند کی اوسط ہے۔اللہ تعالیٰ طاقت دے دیتا ہے۔ایک سوال کے جواب میں حضور نے فرمایا کہ بحیثیت جماعت ہم کسی سیاسی پارٹی سے تعلق نہیں رکھتے۔گورنر جنرل نے دریافت کیا کہ آپ کا اسلامک سوشلزم کے متعلق کیا خیال ہے؟ آپ نے فرمایا سماجی لحاظ سے اسلام سب انسانوں کو انسان سمجھتا اور انہیں انسان ہونے کے لئے یکساں فضیلت اور برتری کے مقام پر فائز کرتا ہے۔بلا امتیاز رنگ ونسل، غربت و امارت، مذہب وملت سب کی عزتِ نفس کی حفاظت فرماتا ہے۔آپ نے اقتصادی نظام اسلام کا کمیونسٹ نظام سے مقابلہ کرتے ہوئے فرمایا کہ کمیونزم تو صرف ہر شخص کو اس کی ضروریات مہیا کرنے کا وعدہ کرتا ہے۔لیکن ضروریات کی