تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 62
تاریخ احمدیت۔جلد 26 62 سال 1970ء تعریف نہیں کرتا۔اسلام کہتا ہے کہ ہر شخص کو اس کی تمام جسمانی، ذہنی، اخلاقی ، روحانی صلاحیتوں کا پورا حق حاصل ہے۔ملاقات کے اختتام پر حضور نے گورنر جنرل کو پاکستانی گھریلو صنعت کا ایک خوبصورت نمونہ بطور تحفہ عطا فرمایا جب کہ صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب نے قرآن مجید انگریزی مع تفسیری نوٹس پیش کئے۔13 گورنر جنرل سے ملاقات کے بعد حضور کی وزیر اعظم سیرالیون محترم سیا کا پی سٹیونس سے ملاقات ہوئی۔انہوں نے اس امر کا اعتراف کیا کہ تحریک احمدیت سیرالیون کے لئے بہت قابلِ تعریف کام کر رہی ہے۔حضور نے فرمایا ہم تو بحیثیت مسلمان یہ خدمت خالصۂ خدمت خلق کے جذ بہ سے کر رہے ہیں۔ہم اپنے آپ کو شکریہ کا ہر گز حقدار نہیں سمجھتے اور نہ ہی ہم کوئی دنیوی معاوضہ مانگتے ہیں۔رخصت ہوتے وقت حضور نے وزیر اعظم صاحب کو بھی پاکستانی دست کاری کا ایک خوبصورت نمونہ تحفہ کے طور پر عطا فرمایا جسے انہوں نے بے حد پسند کیا۔دونوں ملاقاتوں کے دوران پریس کے نمائندے موجود رہے۔احباب سے ملاقات، دعوت استقبالیہ اور مجلس عرفان پونے بارہ بجے جب حضور واپس قیام گاہ پہنچے تو لبنانی احمدی السید حسن محمد ابراہیم صاحب نے ایک عربی قصیده ( مکمل قصیدہ الفضل ۹ جون ۱۹۷۰ء صفحہ ۱۰ پر شائع ہوا) حضور کی خدمت میں ایسے دلگداز انداز میں سنایا کہ سنے والوں پر وجد طاری ہو گیا۔پھر حضور نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا عربی کلام خود پڑھ کر سنایا اور حضور علیہ السلام کے بعض عربی اشعار مولوی عزیز الرحمن صاحب خالد مبلغ سلسلہ سے خوش الحانی کے ساتھ پڑھوا کر سنے۔شام کو پانچ بجے حضور نے ایک دعوت استقبالیہ میں شرکت فرمائی۔اس موقع پر متعدد وزرائے مملکت ممبران پارلیمنٹ اور پرنسپل اور پروفیسر صاحبان بھی موجود تھے۔کئی ایک غیر ملکی سفارتی نمائندے بھی دعوت میں شامل ہوئے۔حضور رات کو نماز مغرب و عشاء کی ادائیگی کے بعد مجلس علم و عرفان میں رونق افروز ہوئے اور احباب کو اپنے قیمتی ارشادات سے نوازا۔