تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 52
تاریخ احمدیت۔جلد 26 52 سال 1970ء امر کا نہایت پر شوکت الفاظ میں اعلان فرمایا کہ اسلام کی فیصلہ کن فتح اور اس کے کامل غلبہ کے دن قریب ہیں۔اس روح پرور خطبہ کے بعد حضور نے نماز پڑھائی۔اس کے بعد دو گھنٹہ تک ملاقات اور مصافحوں کا سلسلہ جاری رہا۔احباب تنظیم کے ساتھ آتے ، مصافحہ کرتے اور پھر اپنے دونوں ہاتھ اپنے چہرے پر برکت حاصل کرنے کے لئے پھیرتے اور درود شریف پڑھتے ہوئے آگے بڑھ جاتے تھے۔شام کو واپس اکر آتے ہوئے حضور نے گونو امنگو اسی کے مقام پر مسجد کا سنگ بنیا درکھا۔۲۵ را پریل کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب فرمایا۔حضور نے فرمایا اسلام اس ملک اور دیگر ممالک کے لئے بنی نوع انسان کی بحیثیت انسان کے ہمسری اور برابری کا پیغام لایا ہے اور ہم اس پیغام کے نقیب اور علمبردار ہیں کہ دنیا کا عظیم ترین انسان تمام انسانوں کو اٹھا کر اپنے زمرے میں شامل فرماتا ہے اور کہتا ہے کہ قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ۔ہم بنی نوع انسان کے خادم ہیں۔اور قرآن کریم کا یہ عظیم پیغام ہے۔ایک اخباری نمائندے نے حضور سے سوال کیا کہ آپ کا ہم لوگوں کے نام پیغام کیا ہے۔فرمایا۔Let humans learn to love humans انسان کو چاہیئے کہ انسان سے محبت کرنا سیکھے۔بعد ازاں جماعت کی انتظامیہ کمیٹی کی میٹنگ میں شمولیت فرمائی اور جماعت کی آئندہ ترقی کے متعلق اہم فیصلے فرمائے۔۲۶ اپریل کو حضور نے قریباً اسی خدام کو شرف مصافحہ بخشا۔پھر الحاج محمد آرتھر صاحب کی فیکٹری کا معاینہ فرمایا۔ازاں بعد ا کرا کی جماعت کو 9 بجے شب سے گیارہ بجے تک شرف ملاقات بخشا۔اسی اثناء میں حضرت بیگم صاحبہ نے مستورات سے مصافحہ فرمایا۔۲۷ اپریل کی صبح کو حضور نانا سے آئیوری کوسٹ کے لئے روانہ ہوئے۔اکرا کے ہوائی اڈہ پر غانا کے احباب نے پُر خلوص دعاؤں سے حضور کو الوداع کہا۔اس موقع پر مبلغین اور عہد یدارنِ جماعت کے علاوہ متعدد دیگر معززین بھی موجود تھے جن میں کئی وزرائے مملکت بھی شامل تھے۔گیارہ بج کر سات منٹ پر حضور کا جہاز روانہ ہوا۔آئیوری کوسٹ میں ورود مسعود ۲۷ را پر پل کو بارہ بج کر پانچ منٹ پر آئیوری کوسٹ کے شہر آبی جان کے ہوائی اڈہ پر جہاز اترا۔مکرم قریشی محمد افضل صاحب مشنری انچا رج آئیوری کوسٹ احباب کے ہمراہ استقبال کے لئے موجود