تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 51
تاریخ احمدیت۔جلد 26 51 سال 1970ء واسے مخلصین جماعت کی ملاقات نماز مغرب و عشاء کی ادائیگی کے بعد وا کی جماعت کے ڈیڑھ سو مخلصین سینکڑوں میل کے فاصلہ سے کشاں کشاں حضور کی ملاقات کے لئے حاضر ہوئے۔سفید لبادوں میں ملبوس سروں پر کلاہ اور سفید شملے اور طرے دار پاکستانی پگڑیاں پہنے ہوئے یہ خلصین حضور کے تشریف لانے پر تعظیماً کھڑے ہو گئے۔سب نے بیک آواز اھلاً و سھلاً و مرحبا کہا اور عربی قصیدہ اس انداز اور درد کے ساتھ پڑھا کہ آنکھیں نمناک ہو گئیں۔ان کی اپنی آواز گلو گیر ہوگئی ان کے چہروں پر محبت اور ایمان کا نور جھلک رہا تھا اور ایک ایسی ربودگی ان پر طاری تھی جسے الفاظ بیان کرنے سے قاصر ہیں۔حضور نے ان سے عربی میں خطاب فرمایا اور ان میں سے ہر ایک کو مصافحہ اور معانقہ کی سعادت بخشی۔۲۲ اپریل کو حضور کماسی سے واپس اکر ا تشریف لے آئے۔اور الحاج الحسن عطاء صاحب کے مکان میں رونق افروز ہوئے۔بعد ازاں کلچرل سنٹر کو ملاحظہ فرمایا اور رجسٹر پر اردو زبان میں دستخط کئے۔راستے میں حضور نے ”بیت نیر میں پُر سوز لمبی دعا کی۔سالٹ پانڈ میں ۲۴ را پریل کو سالٹ پانڈ تشریف لے گئے۔یہ وہ تاریخی مقام ہے جہاں ۲۸ فروری ۱۹۲۱ء کو افریقہ کے پہلے مبلغ احمدیت حضرت مولا نا عبدالرحیم صاحب نیر نے افریقہ کی سرزمین میں پہلا قدم رکھا تھا اور یہیں سے تبلیغ کا آغاز فرمایا تھا۔یہاں بھی حضور کا بڑی گرمجوشی کے ساتھ استقبال ہوا۔حضور نے مسجد اور مشن ہاؤس کو ملاحظہ فرمایا۔یہاں سے وہ مکان بھی نظر آتا ہے جہاں حضرت غیر صاحب نے قیام فرمایا تھا۔یہاں سے حضور پنڈال میں تشریف لے گئے جو عین سمندر کے کنارے پر فضا جگہ پر واقع ہے۔اس جگہ کم از کم بارہ ہزار احمدی مرد اور عورتیں جمع تھیں۔جن کے چہروں پر ایمان اور یقین کی روشنی جھلک رہی تھی۔علاقہ کے تمام اعلیٰ حکام، پیرا ماؤنٹ چیفس اور دیگرا کا برین بھی حاضر تھے۔مشن ہاؤس کی جامع مسجد میں جمعہ کی نماز پڑھائی۔نماز سے قبل حضور نے صداقت اسلام پر ایک روح پرور اور بصیرت افروز خطبہ ارشاد فرمایا۔حضور نے فرمایا آج کا یہ عظیم اجتماع خود اپنی ذات میں آنحضرت ﷺ کی صداقت اور اسلام کی حقانیت کا ایک تابندہ و درخشندہ ثبوت ہے۔حضور نے غلبہ اسلام کی آسمانی پیشگوئیوں کا ذکر فرما کر اور ان کے پورا ہونے کے روز افزوں آثار پر روشنی ڈال کر اس الله